اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 109 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 109

109 ان ایام میں تمام مسلمان حضرت امام جماعت احمدیہ کی آواز پر کان دھر نے لگ گئے تھے۔اور حضرت نے ان ایام میں مسلمانوں کو ان کی اقتصادی بدحالی و دیگر اقسام کی پسماندگی کی طرف خاص طور پر توجہ دلائی اور ور صلعم کی عزت و ناموس کے تحفظ کے سامان بھی حکومت کو مجبوراً کرنے پڑے۔اور حضور کی تجاویز کے مطابق صدائے احتجاج مؤثر ثابت ہوئی۔حضور اس تعلق میں ۲۲ جولائی ۱۹۲۷ء کو ہندوستان بھر میں احتجاجی جلسے کئے گئے۔قادیان کا جلسہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی صدارت منعقد ہوا۔جس میں تیرہ قرار داد میں منظور ہوئیں۔ایک کے مؤید قاضی صاحب تھے۔(۳) سیدنا حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے نمائندہ کے طور پر محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل التبشیر نے مسجد جرمنی کی افتتاحی تقریب میں شرکت کی۔اور یورپ کے احمدی مشغوں کا معائنہ کرنے اور دیگر نو یورپین ممالک میں اسلام کی اشاعت کے وسیع تر امکانات کا جائزہ لے کر واپس آنے پر ربوہ میں پُر جوش استقبال ہوا۔اس موقعہ پر جو بزرگ شامل تھے۔ان میں قاضی صاحب کا نام بھی مرقوم ہے۔(67)۔(۴) مکرم صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب و مکرم سید محمود احمد صاحب ناصر کی لندن سے مراجعت پر ۴/اکتوبر ۱۹۵۷ء کور بوہ ریلوے سٹیشن پر استقبال کرنے والوں میں قاضی صاحب کا اسم گرامی بھی درج ہے۔(68)۔(۵) آپ کا ایک اعلان الفضل مورخہ ۱۵/۶/۵۸ ص ۴ پر ) درج ہے۔(۱) ۲۵ / ستمبر ۱۹۵۵ء کو جب سیدنا حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ سفر یورپ سے مراجعت فرمائے ربوہ ہوئے تو اس تعلق میں مرقوم ہے۔حضور کیسا تھ مصافحہ کا شرف حاصل کرتے ہوئے ضعیف العمر صحابہ کی حالت غیر ہوئی جاتی تھی۔جوش مسرت سے ان پر رقت کا عالم طاری تھا۔ان میں سے بعض بے اختیار ہو کر ہاتھ پھیلاتے ہوئے حضور کی طرف دوڑ پڑے۔مسیح پاک کے ان حواریوں کا اپنے اس امام کی طرف بے تابانہ بڑھنا جو حسن و احسان میں خود مسیح پاک کا نظیر ہے ایک عجیب روح پرور منظر کا حامل تھا کہ جس کی یاد کبھی نہیں بھول سکتی۔حضور نے صحابہ کرام کو شرف دید دیا۔اور شرف مصافحہ سے نوازتے ہوئے ان سے ان کا احوال پوچھا۔“ یہ سولہ صحابی تھے۔جن میں محترم قاضی محمد عبد اللہ صاحب افسر لنگر خانہ بھی شامل تھے۔(69) ایک جنازہ میں شمولیت اور آخری دعاء کرانے کا ذکر الفضل ۳/۱/۵۹اص اپر درج ہے۔