اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 91 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 91

فرمایا تھا۔چنانچہ ان کے الفاظ یہ ہیں : 91 ”میرا خیال درجہ یقین کو پہنچ گیا تھا کہ اس تحریک کی غرض و منشا محض سیاسی ہے۔اس لئے میں اس تحریک سے اتفاق نہیں کرتا۔کیونکہ اس کا نتیجہ ایک اور محض ایک ہے۔اور وہ یہ کہ یہ تحریک ہندوستان کی تمام قوتوں اور جماعتوں کی بر بادی و تباہی کا باعث ہوگی۔(46) حضور نے شدھی کے انسداد کے لئے نظارت تالیف واشاعت کے ماتحت ایک صیغہ انسداد ارتداد قائم کیا۔جس کے ناظر و نائب ناظر و مددگار علی الترتیب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت نواب محمد عبداللہ خاں صاحب مقرر ہوئے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ نے جماعت میں یہ تحریک کی کہ احباب تین تین ماہ کیلئے اپنے اپنے خرچ پر وہاں جائیں۔جماعت ان پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ کریگی۔البتہ دیگر اخراجات کیلئے جماعت سے روپیہ فراہم کیا گیا۔میدان جہاد میں حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب۔حضرت نواب محمد علی خاں صاحب اور حضرت عرفانی صاحب وغیرھم جیسی ہستیاں تشریف لے گئیں۔دفتری اوقات کے علاوہ حضور رات کے گیارہ گیارہ بجے تک مشورے فرماتے اور ہدایات جاری فرماتے۔بعض دفعہ چند گھنٹوں میں مجاہدین تیار کر کے بھجوادیے جاتے۔اور حضور ان کو الوداع کہنے کیلئے بٹالہ کی سڑک کے موڑ تک تشریف لے جاتے۔اسلام کے دور اول کے خلافت اولیٰ اور ثانیہ کے جہاد کے سے جوش کے نظارے نظر آتے تھے۔اور جماعت میں تبلیغی جہاد کیلئے حیرت انگیز ولولہ تھا۔قیام وطعام کی تکالیف کے علاوہ اپنوں اور اغیار کی طرف سے دی گئیں تکالیف مجاہدین نے برداشت کیں۔چنانچہ جماعت احرار وغیرہ کو بھی جماعت احمدیہ کا یہ تبلیغی جہاد تسلیم کئے بغیر چارہ نہ رہا۔۱۹۲۴ء میں اس کے خاطر خواہ نتائج برآمد ہوئے۔اغیار پر بھی دھاک بیٹھ گئی۔جماعت کی ایک خاص شان نظر آئی جس میں تبلیغی اور تنظیمی قابلیتوں کے مظاہرہ کے علاوہ فدائیت۔جان نثاری قربانی کے ایمان افزا مناظر دیکھنے میں آئے۔خواتین بھی قربانی میں مردوں سے پیچھے نہیں رہیں۔بعض نے باوجود غربت کے اپنا سارا زیور اللہ تعالیٰ کی راہ میں نچھاور کر دیا۔میں اس وقت طالب علم تھا۔گیارہ بارہ سال کی عمر تھی۔مجھے اب تک اس وقت کا جوش اور ولولہ یاد ہے۔مسجد اقصیٰ میں لوگوں کے پاس جو کچھ تھا۔اس وقت نچھاور کرتے تھے۔قادیان کے بہت سے اساتذہ اور دکاندار اس مہم پر روانہ ہوئے۔ہندوستان کے تمام مسلمانوں کو ہندو بنالینے یا بعض اور طریقوں سے مغلوب کرنے اور ملکانہ اقوام کے بعد چمبہ سندھ کشمیر وغیرہ میں تہمتیں شروع کرنے کی تجویز تھی جو