اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 90 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 90

90 خدمت بسلسلہ لنگر خانه : خدمات سلسلہ قادیان کے قیام کے عرصہ میں دیگر اعلیٰ کا رکنان کی طرح آپ کو ہمیشہ ہی جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ذمہ داری کا کام سونپا جاتا تھا۔مثلاً ۱۹۲۰ء میں حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور محترم چوہدری غلام محمد صاحب بی اے ( بعدہ مینجر نصرت گرلز سکول) کے ہمراہ دارالعلوم کی نظامت میں عام نگرانی آپ کے سپرد کی گئی۔(44) اور ۱۹۴۲ء میں جلسہ سالانہ پر ناظم سپلائی وسٹور کا عہدہ آپ کے سپر درہا۔(45)۔یہ حوالہ بطور مثال لکھا ہے ورنہ قاضی صاحب ناظر ضیافت کی عہدہ پر سالہا سال تک متعین رہے۔یہ عہدہ نہایت اہم تھا۔اور قریباً سارا سال اس کا کام جاری رہتا ہے۔جلسہ سالانہ کے اختتام پر اس کا سامان محفوظ کرنا۔حسابات کی تکمیل۔پڑتال۔نئے جلسہ سالانہ کیلئے فصلوں کے موقعہ پر اجناس کی خرید۔ایندھن وغیرہ کی فراہمی۔باور چیوں اور نان پزوں کا انتظام۔غرضیکہ قیام و طعام کیلئے جملہ سامان کی فراہمی کا کام ناظم سپلائی وسٹور کے سپرد ہوتا ہے۔اور انتظامات جلسہ سالانہ میں سب سے کٹھن کام یہی ہے۔عہدہ پر ۱۹۴۴ء میں حضرت میر محمد الحق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے انتقال پر قاضی صاحب ناظر ضیافت کے ر متعین ہوئے اور سالہا سال تک اس خدمت کو سرانجام دیتے ہوئے بعد ہجرت بطرف پاکستان بوجہ بڑھاپے کے کام سے فارغ ہوئے۔علاقہ ملکانہ میں تبلیغ : ۱۹۲۳ء میں سیدنا حضرت خلیفہ اسی الثانی ایدہ اللہ تعالی نے جماعت کو ایک خاص خطرہ سے آگاہ کیا۔وہ یہ کہ آریہ سماجی سولہ سال سے خفیہ رنگ میں یہ کوشش کر رہے تھے کہ ایسی اقوام جن میں اسلام برائے نام ہے ان کو مختلف تدابیر سے اسلام سے برگشتہ کر کے ہندو بنا لیا جائے۔اس وقت ایک کروڑ ایسے مسلمان تھے۔جن کا ایک حصہ ملکا نہ کہلاتا تھا اور یوپی کے اضلاع آگرہ۔علی گڑھ۔فرخ آباد متھرا وغیرہ میں آباد تھا۔یہ لوگ راجپوت تھے۔اور ساڑھے چار لاکھ کی ان کی تعداد تھی۔مسلمانوں کی غفلت کے باعث ان میں اسلام نہیں رچا تھا۔اسلامی رسوم کے ساتھ چوٹیاں بھی رکھتے تھے۔گھروں میں بُت رکھتے اور ان پر نذریں چڑھاتے۔اور مُردوں کو جلاتے بھی تھے۔نکاح پنڈتوں سے بھی پڑھوا لیتے تھے۔پنڈت نہرو نے ( جواب بھارت کے وزیر اعظم ہیں ) اس وقت شدھی اور سنگھٹن کی اس تحریک کے بارہ میں یہ بتایا تھا کہ اس کی تہہ میں سیاسی امور کارفرما ہیں اور انہوں نے بجا