اصحاب احمد (جلد 6) — Page 83
83 صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ناظر ضیافت تھے۔ان ایام میں ایک دفعہ میں سخت بیمار ہو گیا تو ایک خاتون میرے کمرہ کے باہر آئیں اور دروازہ کھٹکھٹایا اور السلام علیکم کہا۔میں نے جواب دیا۔انہوں نے پوچھا کہ کیا آپ ہی حافظ مختار احمد ہیں۔میں نے کہا جی ہوں تو میں ہی۔پھر انہوں نے دریافت کیا کہ کیا آپ شاہجہانپور کے رہنے والے ہیں۔میں نے اثبات میں جواب دیا۔انہوں نے کہا میں نے بھائی جی سے سنا تھا کہ آپ علیل ہیں۔اس لئے میں حال پوچھنے کو آئی ہوں۔میں نے شکر ادا یہ کیا اور کہا کہ آپ نے اتنی تکلیف کیوں کی۔بھائی صاحب سے ہی میرے متعلق دریافت کر لیتیں۔کہنے لگیں کہ پوچھا تو تھا مگر تسلی نہ ہوتی تھی۔میں نے خیال کیا کہ خود دریافت کر آؤں۔اور کہنے لگیں کہ کیا آپ کو علم ہے کہ ہمارے خاندان کے ساتھ آپ کے کتنے پرانے تعلقات ہیں۔میں نے کہا۔نہیں۔انہوں نے کہا کہ آپ نے ایک قصیدہ لکھا تھا۔جو میرے والد صاحب مرحوم کو بہت پسند آیا تھا۔اور انہوں نے ہمیں وہ زبانی حفظ کرایا تھا۔اور یہ کہہ کر اس کے چند شعر بھی پڑھ دیئے۔(یہ قصیدہ غالباً ۱۸۹۸ء میں الحکم میں شائع ہوا تھا۔) تب سے آپ سے عقیدت تھی اور اسی وجہ سے میں خود دریافت حال کے لئے آ گئی ہوں۔“ یہ خاتون محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ تھیں۔حافظ صاحب نے فرمایا کہ ہم پرانوں کے آپس کے تعلقات بہت گہرے تھے اور چونکہ ہم ایک ہی شخص کے ہاتھ پر بکے ہوئے تھے۔اس لئے اس ہستی کی محبت ہمیں مجبور کرتی ہے کہ جو ہمارے محبوب کو ہماری طرح جانے والا ہے۔اس سے بھی تعلق اخوت و برادری استوار رہے۔آپ موصیہ تھیں۔اور بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی انہیں بے حد تڑپ تھی۔اپنے پاس وہ ہر وقت ایک سو روپیہ نقد رکھتی تھیں۔تا کہ اگر وفات قادیان سے باہر ہو جائے تو نعش کو قادیان پہنچانے کے کام آئے۔تقسیم ملک کے وقت وہ مقامی امیر صاحب کے زور دینے پر قادیان سے نکلی تھیں اور نہایت ہی بادل ناخواستہ نکلی تھیں۔دراصل ان ایام میں ان کی کمزور صحت کی نگہداشت کے لئے کوئی صورت انتظام کی نہ میسر تھی۔وہ تو مضر تھیں کہ قادیان میں ہی ٹھہری رہیں۔اور شاید قادیان ہی کی جدائی کا صدمہ تھا کہ لاہور پہنچتے ہی فریش ہوگئیں اور رتن باغ جو ہجرت کے بعد سید نا حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی قیام گاہ اور صدر انجمن احمد یہ کا ہیڈ کوارٹر تھا۔وہیں اپنے بھائی قاضی محمد عبد اللہ صاحب کے ساتھ آپ کا قیام تھا۔وہاں ۱۹۴۷ء میں ہی ۱۲۱۱ دسمبر کی درمیانی شب کو بعمر سوا انتہر سال آپ عالم جاوداں کو سدھار گئیں۔انا للہ و انا اليه راجعون۔دسمبر کو اپنا وعدہ تحریک جدید یکمشت ادا