اصحاب احمد (جلد 6) — Page 81
81 لاڈ سے اپنے آقا سے کوئی کام کرانا ہوتا ہے ضد کرتے ہوئے کہنا شروع کیا کہ اب کیا ہوگا۔امتہ الرحمن تو جاتی ہے تو حضرت اقدس نے فرمایا فکر کی بات نہیں۔ہم اس کا مکلا والمبا کر دیں گے۔یعنی جب واپس آئے گی تو زیادہ دیر تک ٹھہرا لیں گے۔آپ کے خاوند ٹک کر کوئی کام نہیں کر سکتے تھے۔ابتدائے خلافت ثانیہ میں ان کے دماغ میں خلل آ گیا تھا اور ۱۹۳۰ء میں وہ فوت ہو گئے۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کے مشورہ سے اور حضور کے ارشاد کی برکت سے آپ نے لاہور میوہسپتال میں داخل ہو کر مڈ وائیف کا امتحان پاس کیا۔اور قادیان سے ہجرت تک متواتر خدمت خلق کی توفیق پائی۔ان کے ہاتھ میں شفا تھی۔بے شمار قریب الموت عورتیں ان کے ہاتھوں بچ گئیں۔جان بچانے کی خاطر گند اور تعفن وغیرہ کی ہرگز پرواہ نہ کرتی تھیں اور ساتھ دعائیں کرتیں اور جو بہت ہی نازک حالت ہوتی تو یوں دعا کرتیں کہ اے خدا! یہ ہاتھ تیرے مسیح کو لگے ہوئے ہیں۔تو اپنے پیارے کی برکت کے طفیل اس کو شفا دے دے۔بے شمار ایسے واقعات سناتی تھیں کہ جن میں بالکل مایوسی کی حالت والے مریض حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت کے طفیل اللہ تعالیٰ نے بچادیئے۔اس ہنر کے باعث متعد دبار آپ کو دار خلافت میں خدمت کے مواقع میسر آئے۔بالخصوص حضرت سیدہ ام طاہر صاحبہ کے ہر موقعہ پر حضور ایدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو خدمت کا شرف حاصل ہوتا رہا۔آپ بہت عرصہ اپنی ملازمت کے سلسلہ میں بھیرہ کے شفا خانہ میں مقیم رہیں۔وہاں بعض دفعہ افسروں سے جو متعصب غیر مسلم ڈاکٹر ہوتے واسطہ پڑتا۔آپ کا انحصار اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں کر کے اس کی مدد حاصل کرنے پر ہوتا۔اور ہمیشہ اللہ تعالی ان کی نصرت فرما تا۔نہایت ہی خلیق تھیں۔دوسروں کی تکلیف میں ہمدردی سے ان کا دل پگھل جاتا تھا۔اور مصیبت زدہ کی مد کیلئے مردانہ وار اُٹھ کھڑی ہوتی تھیں۔قاضی عبدالرحیم صاحب کی یکم نومبر ۱۹۰۰ ء کی ڈائری سے معلوم ہوتا ہے کہ مرحومہ نڈر اور دلی طبع تھیں۔وہ تحریر فرماتے ہیں: آج یہ عاجز گھر ( قاضی کوٹ) گیا۔والد صاحب قادیان گئے تھے۔گھر میں صرف والدہ بشیر احمد اور میری بہن فاطمہ بی بی تھیں۔چوروں نے گھر میں نقب لگائی اور قدم اندر رکھنے نہ پائے تھے کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کو جاگ آگئی اور ہمشیرہ صاحبہ نے بڑی بہادری اور جرات سے کام لیا۔انہوں نے چھت کے اوپر جا کر شور مچایا تھا۔ناقل ) اور چور ناکام بھاگ گئے۔“ تبلیغ کا انہیں جنون تھا۔حضرت مولوی غلام رسول صاحب راجیکی کی ”جھوک مہدی والی“ اور