اصحاب احمد (جلد 6) — Page 80
80 فیصلہ ہونا ضروری ہے۔عاجز کا اور ہمشیرہ امتہ الرحمان کا اس بات پر کامل ایمان ہے کہ حضور کے فیصلہ میں نور اور برکت ہوگی۔والسلام حضور کی جوتیوں کا غلام عبد الرحیم ولد قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم مورخہ ۳۰ جولائی * اس خط کی پشت پر حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے دست مبارک سے مندرجہ ذیل جواب رقم فرمایا: ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔امتہ الرحمن کے معاملہ میں مجھے بہت حیرت ہے۔کوئی صورت خاطر خواہ ظاہر نہیں ہوئی۔احمد نور نیک بخت آدمی ہے۔بہت مخلص ہے۔مگر وہ پر دیسی ہے۔زبان پنجابی اور اردو سے محض نا واقف ہے۔اس صورت میں اصولِ معاشرت میں پہلے ہی یہ نقص ہے کہ ایک دوسرے کی زبان سے ناواقف ہیں۔پھر وہ عنقریب ایک لمبے سفر کیلئے جاتا ہے جو خطرناک زمین کابل کا سفر ہے۔معلوم نہیں کہ کیا ہو۔میں نے کئی جگہ کہہ دیا ہے۔اپنے اختیار میں نہیں۔ایسی جلدی نہیں چاہئے۔جس میں اور فساد پیدا ہو۔والسلام مرزا غلام احمد عفی عنہ** (42) بالآخر آپ کا نکاح منشی مہتاب علی صاحب سیاح جالندھری سے ۵ دسمبر ۱۹۰۴ء کو ہوا۔یہ وہی منشی صاحب تھے۔جن سے مشہور معاند قاضی ظفر الدین پروفیسر کے بیٹے فیض اللہ خان نے مباہلہ کیا تھا۔اور حضرت مسیح موعود نے اس کے ہلاک ہونے کا مفصل ذکر حقیقۃ الوحی میں کیا ہے۔جو آئندہ اوراق میں درج ہورہا ہے۔( حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کی ڈائری کے مطابق منشی صاحب کا وطن موضع ہوگی۔ڈاک خانہ خاص ضلع جالندھر تھا ) حضرت ام المومنین نے ہی اپنی بیٹیوں کی طرح محترمہ موصوفہ کی شادی کر کے انہیں رخصت فرمایا تھا۔سناتی تھیں کہ جب میں رخصت ہونے لگی تو حضرت اماں جان نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سامنے جیسا کہ یہ مکتوب ۱۹۰۴ء کا ہے۔کیونکہ اس سن میں حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب فوت ہوئے۔اور پھر اسی سن میں محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ کی شادی بھی ہوئی۔** مکتوبات احمد یہ جلد ہفتم حصہ اول میں خاکسار نے اس کو مع بلاک شائع کیا ہے۔