اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 75 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 75

75 محترمہ صالح بی بی رضی اللہ تعالی عنها پہلے بیان ہو چکا ہے کہ محترمہ صالحہ بی بی صاحبہ اہلیہ قاضی عبدالرحیم صاحب اپنے خسر حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کے جون 1901ء میں ہجرت کر کے قادیان آنے پر اپنے ننھے بچے قاضی بشیر احمد صاحب حال مقیم راولپنڈی سمیت حضرت قاضی صاحب کے ساتھ آگئی تھیں۔حضرت قاضی صاحب کے نام مکتوب میں حضرت مسیح موعود نے ۳ دسمبر ۱۹۰۰ء کو تحریر فرمایا تھا: بہت خوشی کی بات ہے کہ آپ تشریف لاویں۔آپ کی بہو کیلئے اگر ساتھ لے آویں۔66 تین چار ماہ تک کوئی بوجھ نہیں۔ایک یاد وانسان کا کیا بوجھ ہے۔“ بہو سے مراد موصوفہ ہی ہیں۔چنانچہ کچھ عرصہ دار ایسے کے نچلے حصہ میں قیام رہا۔حضرت قاضی صاحب کی دختر امتہ الرحمن کو حضرت ام المومنین اعلی اللہ درجاتہا کی خدمت میں رہنے کی سعادت حاصل رہی۔سارے حالات کا جائزہ لینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آپ سلسلہ احمدیہ سے ہی وابستہ تھیں۔لیکن ظاہر بیعت نہ کی تھی۔جس کا قادیان میں موقعہ ملا۔آپ کا بیان ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے غالباً ۱۹۰۲ء میں بیعت کی تھی۔سردیوں کے دن تھے۔شاید کتک کا مہینہ تھا۔* حضور علیہ السلام کے مکان کے نچلے دالان میں جب کہ میرے ساتھ دو اور عورتوں نے بھی بیعت کی تھی۔ایک والدہ خواجہ علی اور دوسری شیخ اصغر علی صاحب کی ساس۔بیعت کے وقت حضور علیہ السلام کا چہرہ مبارک مشرق کی طرف۔ہمارا مغرب کی طرف تھا۔اور حضور چوکڑی طرز پر تشریف فرما تھے۔اور فرمایا کہ کہو آج میں احمد کے ہاتھ پر ان تمام گناہوں سے تو بہ کرتی ہوں جن میں مبتلا تھی۔یہ فقرہ تین دفعہ دہرایا۔اس کے بعد فرمایا کہو شرک نہ کروں گی۔چوری نہ کروں گی۔جھوٹ نہ بولوں گی۔خاوند کی خیانت نہ کروں گی۔نماز پنج وقت اور وقت پر ادا کروں گی۔خدا تعالیٰ اگر توفیق دے تو تہجد بھی پڑھوں گی۔اور آپ جو نیک کام بتائیں گے۔اس پر عمل کروں گی۔اس کے بعد حضور نے ہاتھ اُٹھا کر دعا فرمائی اور ہم نے بھی دعا کی۔”بڑے قاضی صاحب (یعنی قاضی ضیاء الدین صاحب) نے مجھے فرمایا تھا کہ جاؤ حضرت کتگ گویا مطابق نومبر ۱۹۰۲ ء تھا۔