اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 71 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 71

71 ماہر نہیں ہیں۔اس لئے کئی باتیں ہوں گی۔جن میں غلطی کا امکان ہو سکتا ہے۔جو سو سال تک اثر انداز ہوتی رہیں گی۔اب آپ کا مسجد کا کام ہلکا ہو چکا ہے۔اگر آپ مشورہ دے سکیں تو میں چوہدری صاحب کو کہہ دوں کہ آپ سے مشورہ لے لیا کریں۔اور دوسرے تیسرے دن بنی ہوئی عمارت کو دیکھ کر اگر غلطی ہو آپ روک دیا کریں۔اس کے جواب میں آپ نے تحریر کیا کہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ عرض ہے کہ۔۔۔۔۔۔میں تو حضور کا غلام ہوں اور اس خاطر با وجود خانگی رہائشی بے اطمینانی کے حضور کے قدموں میں بیٹھا ہوا ہوں کہ خدمت کا موقعہ ملتا ہے۔۔۔۔۔۔جب میں ربوہ میں حضور کے ارشاد پر آیا تھا تو اپنے دل میں حضور کی خدمت کے خیال کو ہی مد نظر رکھا تھا۔اگر چہ حالات اب وہ نہیں۔مگر میرا خلوص نیت سے یہی ارادہ تھا کہ حضور کی خدمت صرف خدمت کے خیال سے کروں۔یہ حضور کی نوازش خاص ہے کہ حضور نے اب تک ثواب کے مواقع متواتر بہم پہنچائے ہیں۔میں نے جو نظارے دیکھے ہیں۔ان میں قادیان جانے کیلئے یہ بھی ایک زینہ تھا۔انشاء اللہ اب قادیان کی واپسی قریب تر ہو رہی ہے۔میں انشاء اللہ خلوص نیت سے حضور کے مکانات کی نگرانی کرونگا۔وما توفیقی الا بالله - خاکسار عبدالرحیم ۵۱۔۶۔۱۰ مسجد مبارک ربوہ کی تعمیر کے متعلق آپ نے ۲۳/۹/۵۱ کو ذیل کا خط لکھا: بحضور حضرت خلیفۃ اسیح علیہ الصلوۃ والسلام السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔اب کئی دوست کہہ رہے ہیں کہ مسجد کے مینار بنے چائیں۔اگر حضور اجازت بخشیں تو دو یا چار مینار صرف مسجد کا نشان ظاہر کرنے کیلئے معمولی قسم کے تعمیر کر دیئے جائیں۔چونکہ یہ مسجد دو منزلہ بنی ہے۔اس لئے حضور سے استصواب ضروری ہے۔دوسری منزل کی تعمیر کے وقت میناروں کو گرانا ہوگا۔خاکسار عبدالرحیم بھٹی حضور نے اس پر اپنے قلم مبارک سے تحریر فرمایا ہوا ہے: منارضرور چاہئیں۔مگر اس بارے میں پہلے اسٹیمیٹ پیش ہو۔“ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ ناظر اعلیٰ نے آپ کو لکھا: