اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 28 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 28

28 اپنے رسالہ اشاعتہ السنہ میں ایک مفید اور طویل تبصرہ شائع کیا تھا۔جس میں حضور کی مالی قالی اور حالی خدمت اسلام کو تیرہ سوسال میں بے نظیر قرار دیا تھا۔لیکن بعد میں مخالفت کرنے لگے اور اپنے استاد سید نذیر حسین صاحب دہلوی پر زور دے کر فتوی کفر دلایا۔حضرت اقدس کے الہام میں استاد و شاگرد دونوں کو فرعون وھامان کہا گیا ہے۔(12) مولوی صاحب کی زندگی الہام انی مهین من ارادھانتک کا مرقع ہے۔اس سے قبل حضرت مولوی عبد اللہ غزنوی کو بھی اللہ تعالیٰ نے بتا دیا تھا کہ مولوی محمد حسین صاحب کے علم کا پیراہن پارہ پارہ کر دیا جائے گا۔اس بارہ میں قاضی صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں ذیل کا عریضہ لکھا: ”بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم بخدمت حضرت اقدس بعد السلام علیکم ورحمۃ اللہ عرض آنکہ اس خط کو جو محمدحسین ( بٹالوی۔ناقل ) کی طرف لکھا گیا ہے۔بعض دوستوں نے خصوصاً صاحبزادہ صاحب نے بھی پسند فرمایا ہے۔* لہذا چاہتے ہیں۔چونکہ نور القرآن کے حاشیہ پر جگہ موجود ہے۔اگر اجازت دیں مختصر چھاپ دیا جائے۔کیونکہ اس کشف والے ولی کے یعنی عبداللہ غزنوی کے بہت معتقد محمد حسین کی جماعت میں موجود ہیں۔اگر وہ فائدہ نہ اٹھائے گا تو دوسرے ہی سہی۔ورنہ حجت ہوگی۔فقط۔جیسا کہ حکم ہو مطلع فرما دیں۔والسلام والا کرام۔عریضہ نیاز مسکین ضیاءالدین عفی عنہ محرره ۲۰/ دسمبر ۱۸۹۵ء اس کی پشت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے دست مبارک سے رقم فرمایا۔بہتر ہے چھاپ دیں مگر خط میں لکھ دیں کہ چونکہ آپ کا اس کشف سے فائدہ اٹھا نا ظنی امر ہے۔بالخصوص اس تعصب کے جوش میں جو آپ مسلمانوں کو کا فرمانتے ہیں۔اس لئے میں نے نور القرآن میں اس خط کو چھپوا بھی دیا ہے۔تا یہ خط مفید عام ہو جائے۔“ ** * اس سے مراد حضرت صاحبزادہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی ہیں جیسا کہ آگے ذکر آتا ہے اور اس کتاب پر بھی پیر صاحب کا نام درج ہے۔(مؤلف) ** خط کے آخر پر حضور کے دستخط نہیں ہیں۔