اصحاب احمد (جلد 6) — Page 25
25 کتاب اعجاز مسیح کا جواب لکھنے کا ارادہ کیا۔اس کو خدا نے فورا ہلاک کیا۔غلام دستگیر نے اپنی کتاب فتح رحمانی کے صفہ ۲۷ میں مجھ پر بددعا کی اس کو خدا نے ہلاک کیا۔مولوی محمد اسماعیل علی گڑھ نے مجھے پر بددعا کی اس کو خدا نے مار دیا محی الدین لکھو کے والا نے مجھ پر بددعا کی اس کو خدا نے مار دیا۔مہر علی نے مجھ کو چور بنانا چاہا وہ خود چور بن گیا۔محمد حسن بھین نے میری کتاب کا رد لکھ کر مجھے ذلیل کرنا چاہا خود ایسا ذلیل ہوا کہ خدا نے اس کی سزا صرف اس کی موت تک کافی نہ سمجھی بلکہ ہر ایک غلطی میری جو اس نے نکالی وہ ان کی خود غلطی ثابت ہوئی۔بد قسمت مہر علی کو بھی ساتھ ہی لے ڈوبا۔“ اس پیشگوئی کی رؤیت کے زندہ گواہوں میں سے حضرت اقدس نے سات کے اسماء درج فرمائے ہیں۔جن میں حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کا نام بھی شامل ہے۔(9) پیشگوئی نمبر ۴۹ تاریخ بیان پیشگوئی یکم جنوری ۱۸۸۸ء میں حضور فرماتے ہیں: مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک لڑکے کے پیدا ہونے کی بشارت دی۔چنانچہ قبل ولادت بذریعہ اشتہار کے وہ پیشگوئی شائع ہوئی پھر بعد اس کے وہ لڑکا پیدا ہوا۔جس کا نام بھی رؤیا کے مطابق محمود احمد رکھا گیا اور یہ پہلا لڑکا ہے جو سب سے بڑا ہے۔“ پیشگوئی نمبر ۵۰ تاریخ بیان پیشگوئی ۱۰ دسمبر ۱۸۹۶۲ء میں حضرت اقدس تحریر کرتے ہیں: پھر مجھے دوسرے لڑکے کے پیدا ہونے کی نسبت الہام ہوا کہ جو قبل از ولادت بذریعہ اشتہار شائع کیا گیا الہام یہ تھا سیولد لک الولدویدنی منک الفضل اور وہ الہام آئینہ کمالات اسلام کے صفحہ ۲۶۶ میں بھی درج کیا گیا تھا۔اور اس کے بعد دوسرا بیٹا پیدا ہوا۔جس کا نام بشیر احمد ہے۔“ پیشگوئی نمبر ۵ ( تاریخ بیان پیشگوئی ۵ ستمبر ۱۸۹۴ء) میں حضور رقم فرماتے ہیں: پھر تیسرے بیٹے کی نسبت اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی انا نبشرک بغلام۔اور یہ پیشگوئی رسالہ انوار الاسلام میں قبل از وقت شائع کی گئی۔چنانچہ اس کے مطابق اللہ تعالیٰ نے تیسرا بیٹا عطاء فرمایا۔جس کا نام شریف احمد ہے۔“ ہرسہ پیشگوئیوں کی روئیت کے گواہوں میں حضرت اقدس کی طرف سے چھ کے اسماء درج ہوئے ہیں۔جن میں سے ایک قاضی ضیاء الدین صاحب بھی ہیں۔(10)