اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 22 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 22

22 عالم تھے۔اور طبیب حاذق تھے۔اور خاص شہرت رکھتے تھے۔درس و تدریس میں شامل ہونے کیلئے لاہور تک کے طلباء آپ کے پاس آکر رہتے تھے۔اور بعض وقت ان کی تعداد چالیس تک بھی پہنچ جاتی تھی۔پادریوں کے ساتھ اسلام کی تائید میں بخشیں کرتے تھے۔چنانچہ ایک مشہور پادری سے جس کا نام ذہن سے اتر گیا ہے۔ان کا کامیاب مناظرہ بھی ہوا تھا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی سے پہلے کی بات ہے۔۱۸۹۵ء میں آپ کا مباحثہ چوٹی کے مخالف علماء سے ہوا۔اور ان سے سوائے راہ فرار اختیار کرنے کے اور کچھ نہ بن پڑا۔اسی طرح آپ کے روز نامچہ کے اندراجات جو فارسی میں ہیں۔اس زبان پر عبور حاصل ہونے پر دلالت کرتے ہیں اور مباحثہ مذکورہ سے اور اپنے فرزند قاضی محمدعبداللہ صاحب کے تسمیہ کی تفصیل سے اعلیٰ پایہ کی کتب احادیث و تفاسیر وغیرہ سے آپ کی کامل واقفیت ظاہر ہوتی ہے۔جس کی تفصیل دوسری جگہ دی ہے۔تریاق القلوب میں مندرجہ آپ کے خط سے آپ کا صاحب علم ہونا مترشح ہوتا ہے۔اہلیہ محترمہ قاضی عبدالرحیم صاحب بیان کرتی تھیں کہ حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشاد پر قرآن شریف ترجمہ سے حضرت قاضی صاحب سے پڑھنا شروع کیا تھا۔نشان بابت عبد اللہ آتھم : دجال کا عظیم فتنہ ہزاروں شاخیں رکھنے والا شجرہ ملعونہ ہے۔اس کی جڑھ بگڑی ہوئی عیسائیت ہے۔مادہ فاسدہ کی طرح جو جسم انسانی کے مختلف اعضاء میں مختلف عوارض کی شکل اختیار کرتا ہے۔اس نے بھی ہزار ہا روپ دھارے ہیں۔اس فتنہ کو ایک غیر معمولی فتنہ سے موسوم کریں تو بھی وہ غیر معمولی صفت اس کی وسعت اور ہمہ گیری کو ظاہر کرنے سے قاصر اور نا کافی ہے۔انبیاء سابقین کے ازمنہ میں روحانی فتنے ایک قوم یا ملک تک محدود ہوتے تھے۔لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام اقوام عالم کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔اس لئے مقدریوں تھا کہ مسلمانوں کے انحطاط و زوال کے زمانہ میں یہ قیامت پیکر سیلاب امڈ کر تمام روئے عالم پر محیط ہو جائے گا اور اقوام و مذاہب اس کے پیدا کردہ نظریات اور تہذیب کو یوں اپنا لیں گے کہ گویا ان میں ذرا بھر بھی مضرت کا پہلو نہیں۔بلکہ شیر مادر کی طرح اسے اپنی پرورش اور نمو کے لئے ضروری اور لا بدی قرار دے لیں گے۔کل تک جو آل رسول اور علماء اسلام کہلانے میں فخر محسوس کرتے تھے۔آج آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام پر نہایت گھناؤنے اور ننگ انسانیت الزامات عائد کرنے کو باعث صد افتخار اور عین کار ثواب یقین جاننے لگے۔کروڑوں انسانوں نے اس مسخ شدہ مذہب کو قبول کر لیا۔جس کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تَكَادُ السَّمْوَاتُ يَتَفَطَّرُنَ مِنْهُ وَ * سورۃ مریم - آیت ۹۱-۹۲ -