اصحاب احمد (جلد 6) — Page 144
144 رات رکھا جاتا تو پیٹ شاید پھول کر پھٹ جاتا۔بدھ کو وہ چار بجے مرا ہے۔اور اسی وقت دفن کیا گیا تھا۔بیماری سے پہلے بہت لوگوں کے روبرو اُس نے بچوں کے افسوس میں کہا کہ اب خدا بھی میرا مخالف ہو گیا ہے۔ایام بیماری میں بھی گاہے گا ہے ایسے لفظ بولتا رہا۔ڈاکٹر کے رو برو کہا کہ اب خدا پر مجھے کوئی امید نہیں۔یہ کہنے پر کہ خدافضل کرے گا۔اس سے فضل مانگو۔عموماً وہ ایسے الفاظ بولتا تھا۔جو کچھ میں نے تحریر کیا ہے۔نہایت تحقیقات سے دریافت کیا ہے اور بالکل راست ہے۔دوسرا ایمان افزانشان : راقم عاجز قاضی عبدالرحیم۔نقشہ نویس محکمہ نہر۔جموں مورخہ / اپریل ۱۹۰۶ء (90) چراغ دین کے متعلق نشان بالا کے بعد ایک اور ایمان افزانشان ظاہر ہوا اس میں بھی دست غیب کارفرما نظر آتا ہے۔افسوس کہ دل کے اندھے نشان کے بعد نشان دیکھتے ہیں۔اور عبرت نہیں پکڑتے۔خط بالا کے شائع ہونے پر معاندین نے ایک مقدمہ کھڑا کر دیا۔جس کا نتیجہ اگر ان کے حسب مراد نکلتا تو گویانشان بالا مشتبہ ہو جاتا۔لوگ سمجھتے کہ اگر ایک بار چراغ دین کی تذلیل ہوئی ہے تو دست بدست حضرت اقدس کے مرید کی بھی تذلیل ہوئی ہے۔(معاذ اللہ ) اللہ تعالیٰ جس نے اپنے محبوب مسیح کو چمکتے ہوئے نشانوں کے ساتھ مبعوث کیا تھا۔اس کی عزت کو محفوظ و مامون رکھنے کے لئے ملائکہ کی افواج ہر وقت چوکس رہتی تھیں۔تا إِنِّي مُهِينٌ مَنْ أَرَادَ اهَا نَتَكَ وَ نِّي مُعِيُنٌ مَنْ اَرَاد إِعَانَتَكَ کا نظارہ ہر لمحہ ظاہر ہوتا رہے۔اور معاند ہمیشہ ناکام و نامراد خائب و خاسر اور مخذول و مردود ثابت ہوں۔اس کی تفصیل آپ قاضی صاحب کی قلم سے سُنیے کہ یہ قصہ کس قدر ایمان افزا اور ساتھ ہی کس قدر عبرت انگیز ہے۔(یہ تفصیل پہلی بار شائع کی جارہی ہے ) آپ نے حضور کی خدمت اقدس میں عرض کیا۔”بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم " سيدى۔السلام عليكم ورحمة الله وبركاته ”خاکسار نے ایک عریضہ چراغ دین کی وفات پر حضور پر نور کی خدمت میں ارسال کیا تھا۔اس کے جواب میں مفتی صاحب نے لکھا کہ چراغ دین کے متعلق چند باتیں تحقیقات سے دریافت کر کے لکھو۔جو کچھ مجھے دریافت کرنے سے معلوم ہوا میں نے تحریر کر دیا۔لیکن مجھے یہ و ہم بھی نہ تھا کہ یہ خط اخبار میں چھاپا جائے گا۔میں نے اس خیال پر کہ شاید چراغ دین