اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 143 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 143

143 اور کتاب لکھی ہے۔جس کا نام اغراض مرزا رکھا ہے۔اسے اعجاز محمدی کے چھپنے کے بعد چھپوانے کا ارادہ رکھتا تھا۔وہ کہتا ہے کہ اگر یہ شخص زندہ رہتا تو کچھ کا کچھ کر کے دکھا دیتا۔مگر خدا نے اسے مہلت نہیں دی۔غرض یعقوب اس کا نہایت مداح ہے۔”میرے خیال میں یہ شخص مس اپنی بیسنٹ کی طرح بار یک پالیسی پر چلتا تھا۔زندگی میں اس کی حالت نہایت رڈی اور ذلیل تھی۔اس کی عورت پر لوگ یاری آشنائی کا الزام لگاتے تھے۔ممکن ہے کہ وہ اس کی زندگی میں ہی خراب ہو۔یہ شخص مقروض تھا۔اس کی حالت یہاں تک گری ہوئی تھی کہ اس کی اور اس کے بچوں کی تکفین پر چندہ کیا گیا تھا۔یعقوب مسیحی سے مل کر بعد ازاں میں چراغ دین کے مکان پر پہنچا۔وہاں اس کی عورت اور دو ایک محلہ دار عورتیں موجود تھیں۔ان سے دریافت کرنے سے معلوم ہوا کہ بروز ہفتہ چراغ دین کے دونوں لڑکے فوت ہوئے۔سوموار دس بجے کے قریب وہ اپنے بچوں کا افسوس کر رہا تھا کہ بخار میں مبتلا ہو گیا۔عورتوں کا خیال ہے کہ اسے طاعون نہیں ہوا۔بلکہ وہ بچوں کے غم والم سے مرا ہے۔بخار کے بعد اس نے کھانا چھوڑ دیا تھا۔گاہے گاہے ساگودانہ کے چند کا شک کھلائے گئے۔بعد میں وہ بھی نہیں۔بیماری کے دوسرے روز مسہل کرایا۔مگر پاخانہ نہ آیا۔پھر تیسرے روز مسہل کرایا گیا۔اور قبض کشانہ ہوئی۔اس کی زبان سیاہ ہوگئی تھی۔چوتھے روز اس نے الہام میں سنگترہ اور گلاب کے پھول دیکھے۔صبح اس نے اپنی خواب کے مطابق ایک سنگترہ اور دو غنچہ گلاب کے منگائے۔اتفاق سے گلاب کے پھول دستیاب نہ ہوئے۔سنگترہ کی کوئی ایک پھاڑی اس نے کھائی۔اس کے بعد کے روز اس نے انار منگایا اور اس کے بھی چند دانہ کھائے۔ساتویں روز اسے نمونیا ہو گیا۔سینہ پر بہت سا بلغم جم کر بعض دفعہ سانس رکتا تھا۔نویں روز بدھوار ۴ را پریل ۱۹۰۶ ء کو وہ مر گیا۔" مرنے سے پیشتر اس سے پوچھا کہ کسی چیز کی خواہش ہے۔تو اس نے برف مانگی۔چنانچہ لا کر تھوڑی سی کھلائی گئی۔دورانِ بیماری میں اس نے ایک دو گھونٹ دودھ پیا۔عام رائے یہی ہے کہ اس نے کچھ نہیں کھایا اور پاخانہ مطلق نہیں آیا۔ڈاکٹر کہتا ہے کہ شروع میں اسے پلیگ فیور تھا۔اور ساتویں روز اسے نمونیا پلیگ ہو گیا۔کل نو روز بیمار رہا ہے۔دوران بیماری میں اس کا پیٹ پھول گیا تھا۔مرنے کے بعد تو اچھا خاصہ سوج گیا تھا۔لوگ کہتے ہیں کہ اگر