اصحاب احمد (جلد 6) — Page 13
13 صبر کرنے سے بڑے بڑے اجر بخشے۔خدا تعالیٰ ان تمام مصیبتوں سے مخلصی عنایت کر دے گا۔دشمن ذلیل و خوار ہوں گے۔جیسا کہ صحابہ کے زمانہ میں ہوا۔کہ خدا تعالیٰ نے ان کی ڈوبتی کشتی کو تھام لیا۔ایسا ہی اس جگہ ہوگا۔ان کی بددعائیں آخر ان ہی پر پڑیں گی۔‘سو بارے الحمد اللہ کہ حضور کی دعا سے ایسا ہی ہوا۔عاجز ہر حال استقامت وصبر میں بڑھتا گیا۔با وجود بشریت اگر کبھی مداہنہ کے طور پر مخالفوں کی طرف سے صلح صفائی کا پیغام آیا تو بدیں خیال کہ پھر یہ انبیاء کی مصیبتوں سے حصہ کہاں۔دل میں ایسی صلح کرنے سے ایک قبض سی وارد ہو جاتی۔اور میں نے بچشم خود مخالفوں کی یہ حالت دیکھی اور دیکھ رہا ہوں کہ ان کی وہ خشک وہابیت بھی رخصت ہو چکی۔کتاب وسنت سے تمسک کی کوئی پرواہ نہیں۔اور دنیا بھی شب و روز ہاتھوں سے جارہی ہے۔جس کے گھمنڈ سے غرباء کو تکلیفیں دی تھیں۔غرض دنیا دین دونوں کھو رہے ہیں۔خوار و شرمندہ ہیں۔حضور کی وہ پیشگوئی جو ان کے ایڈووکیٹ کے حق میں فرمائی تھی کہ اِنّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَاهَانَتَگ۔مناسبت کے لحاظ سے حسب قسمت سب برابر اس سے حصہ لے رہے ہیں۔جیسا کہ تمام ہمعصر گواہ ہیں۔راقم مسکین ضیاءالدین عفی عنہ قاضی کوئی ضلع گوجرانوالہ (3) اہلیہ محترمہ کی وفات پر حضور کا تعزیتی مکتوب: آپ کی زوجہ محترمہ کا نام امتہ الکریم تھا۔وہ نو جوانی میں ۲۸ برس کی عمر میں (بمطابق بیان قاضی محمد عبد الله صاحب ۲۲ فروری ۱۸۹۰ء کو جب کہ قاضی صاحب مصرف سوا تین سال کے تھے ) اس دار فانی سے عالم جاودانی کی طرف انتقال کر گئیں۔قاضی صاحب روز نامچہ میں تحریر کرتے ہیں: نقل خط جناب مرزا صاحب غلام احمد جی مجدد وقت رئیس قادیان سلمه ر به آنچه در جواب عریضہ نیاز ایں احقر کہ بعد وفات اہلیہ خود عرض داشته بودم در پوست کارڈے مشرف فرمودند وهو هذا۔