اصحاب احمد (جلد 6) — Page 14
14 مشفقی مکر می اخویم بسم الله الرحمن الرحيم۔و نصلی علی رسوله الكريم۔نحمده و نصلی * السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔آپ کا عنایت نامہ پہنچ کر بدریافت حادثہ واقعہ وفات اہلیہ مغفورہ مرحومہ آئمکرم سخت اندوه و حزن ہوا۔” إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ “۔مومنوں کے لئے یہ دنیا دار الابتلاء ہے۔خاص کر ان مومنوں کے لئے جو خلوص اور اتحاد زیادہ پیدا کر لیتے ہیں۔حدیث صحیح میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص مجھ سے محبت رکھتا ہے۔اس کو قضاء و قدر کی مصیبتوں کیلئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ جو شخص مجھ سے محبت رکھے اُس پر اس قدر مصیبتیں نازل ہوتی ہیں کہ جیسے پہاڑ کے اوپر سے نیچے جلد تر پتھر آتا ہے۔سو آپ اللہ محبت و اخلاص رکھتے ہیں۔ضرور تھا کہ آزمائے جاتے۔سخت تر مصیبت یہ ہے کہ اس مرحومہ کے خورد سال بچے اپنی والدہ مہربان کا منہ دیکھنے سے محروم رہ گئے۔خدا تعالیٰ ان کے دلوں کو غیب سے تسلی اور خوشی بخشے اور آپ کو نعم البدل عطا کرے۔میرے نزدیک تلاش نکاح ثانی کی ضروری ہے۔یہی سنت ہے۔آپ کی عمر کچھ بڑی نہیں ہے۔زیادہ خیریت ہے۔والسلام۔( غیر مطبوعہ ) ۲۳ مارچ ۱۸۹۰ء ** قاضی صاحب کے مرحومہ کے بطن سے تین بچے صحابی جن کا اس تذکرہ میں الگ الگ تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔آپ نے ۱۵مئی ۱۸۹۱ء کو پھر نکاح کیا۔لیکن تھوڑے عرصہ کے بعد اس زوجہ کو طلاق دینی پڑی۔ان سے کوئی اولاد نہیں ہوئی۔* ( نقل مطابق روز نامچه ) ** یہ خط خاکسار پہلی بار شائع کر رہا ہے۔الحکم 14/2/36 میں ” خط کا متن نہیں صرف اس کی تاریخ کا ذکر ہے۔وہاں قاضی محمد عبداللہ صاحب کی تقریر ذکر حبیب شائع ہوئی ہے۔وہاں سہوا تاریخ مکتوب 23 مارچ 1889ء تحریر ہے۔حضرت قاضی صاحب نے 23 مارچ 1889ء کو آغاز بیعت کے روز بیعت کی۔اس کے گیارہ ماہ بعد ان کی اہلیہ محترمہ کا انتقال ہوا۔جس پر حضوڑ نے تعزیتی مکتوب ارسال فرمایا۔چنانچہ حضرت قاضی صاحب کے روزنامچہ میں یہ مکتوب نقل ہے اور وہاں تاریخ 23 مارچ 1890ء د۶۵ رج ہے۔اور یہی روز نامچہ قاضی محمد عبد اللہ صاحب کی اطلاع کا ماخذ ہے۔(مؤلف)