اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 136 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 136

136 کی زبانی اس کی تفصیل درج کرنے سے قبل حضرت اقدس کا اقتباس درج کیا جاتا ہے۔فرماتے ہیں: اس کتاب کے ختم کرنے کے بعد ایک اور نشان مباہلہ کے رنگ میں اور دوسرا نشان پیشگوئی کے طور پر ظاہر ہوا۔جس سے دو سو آٹھ نمبر نشانوں کا پورا ہوتا ہے۔لہذا ان نشانوں کیلئے دو اوراق کتاب میں بڑھانے پڑے۔66 وَهَذَا مِنْ فَضْلِ رَبِّى۔إِنَّ رَبِّى ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ۔وَلَهُ الْحَمْدُ فِي الْأُولَى وَ الْآخِرَةِ وَ هُوَا لْمَوْلَى الْكَرِيم “ بعده حضور فیصلہ بذریعہ مباہلہ کا ایک اور تازہ نشان“ کے عنوان کے تحت رقم فرماتے ہیں: نشان ۲۰۷۔ذیل میں وہ مباہلہ درج کیا جاتا ہے۔جو ہماری جماعت کے ایک ممبر منشی مہتاب علی صاحب نے فیض اللہ خاں بن ظفر الدین احمد سابق پروفیسر اور نینٹل کالج لاہور کے ساتھ ۱۲ جون ۱۹۰۶ء کو کیا تھا۔اور جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ فیض اللہ خاں اپنی خواہش کے مطابق مرض طاعون میں گرفتار ہو کر ۱۳ اپریل ۱۹۰۷ء مطابق یکم بیساکھ سمہ ۱۹۶۳ میں نہ صرف خود ہی ہلاک ہوا۔بلکہ اپنے بعض دیگر عزیزوں کو بھی لے ڈوبا۔اس جگہ اس بات کا ذکر بھی فائدہ سے خالی نہ ہوگا کہ اس شخص فیض اللہ خاں کا باپ قاضی ظفر الدین بھی ہمارے سلسلہ کا سخت مخالف تھا۔اور جب اس نے اس سلسلہ کے برخلافا یک عربی نظم لکھنی شروع کی۔* تو ہنوز اسے پورا نہ کر چکا تھا۔اور مسودہ اس کے گھر میں تھا۔چھاپنے تک نوبت نہ پہنچی تھی کہ وہ مرگیا۔اب اس مباہلہ کی تحریر کی عبارت طرفین کی نقل کی جاتی ہے۔دونوں فریق کی د تخطی تحریر میں ہمارے پاس موجود ہیں۔تحریر دستخطی فیض اللہ خاں بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم الحمد لله الذي لا يضر مع اسمه شئى فى الارض ولا في السماء وهوا السميع العليم۔بعد حمد وصلوت برسول رب العلمین کے میں قاضی فیض اللہ خاں بن قاضی ظفر الدین احمد مرحوم ایک مسلمان حنفی سنت نبویہ کا پورا تابعدار اس بات کا قائل ہوں کہ حضرت محمد صلی اللہ * نوٹ از حضور علیہ السلام: ” ایک قصیدہ میں نے عربی میں تالیف کیا تھا۔جس کا نام اعجاز احمدی رکھا تھا اور الہامی طور پر بتلایا گیا تھا کہ اس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکے گا۔اور اگر طاقت بھی رکھتا ہوگا تو خدا کوئی روک ڈال دے گا۔(باقی اگلے صفحہ پر)