اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 137 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 137

137 علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو کہ خاتم النبیین ہو چکے ہیں۔وحی کا نازل ہونا خلاف مذہب قرآن و حدیث ہے۔اور مرزا صاحب کے اس دعوی کی تردید کرتا ہوں کہ وہ مثیل و مسیح موعود ہیں اور منشی مہتاب علی صاحب خلف الرشید منشی کریم بخش صاحب سکنہ شہر جالندھر جو کہ مرزا صاحب موصوف کے تابع ہیں۔دعوی کرتے ہیں کہ جو شخص ان کے اس دعوی کی تردید کرے۔اس پر عذاب الہی نازل ہوگا۔لہذا میں دعا کرتا ہوں کہ ہم دونوں فریقوں میں سے جو شخص جھوٹا ہے اس پر عذاب الہی نازل ہو۔مثل موت یا بیماری طاعون یا مقدمہ میں گرفتاری۔اور میں بمطابقت سنت نبوی کے ایک سال کی معیاد ٹھہراتا ہوں۔اور یہ شرط کرتا ہوں کہ اگر یہ عذاب میرے یا منشی مہتاب علی کے بغیر کسی اور شخص قرابتی پر ہو تو یہ شرط میں داخل نہ ہوگا۔و آخر دعوانا ان الحمد لله رب العلمين و صلى الله تعالى على خیر خلقه محمد و آله واصحابه اجمعین برحمتک یا ارحم الرحمین قاضی فیض اللہ خاں سکنہ جنڈیالہ باغوالہ تحریر و تخطی منشی مهتاب علی ”بسم الله الرحمن الرحيم ضلع گوجرانوالہ مورخه ۱۲ جون ۱۹۰۶ء نحمدہ و نصلّے میں حضرت اقدس حضرت مرزا غلام احمد کو سا مسیح سمجھتا ہوں اور ان کا ہر ایک دعوئی جو دین کے متعلق ہے۔بلا کسی شک و شبہ کے صحیح مانتا ہوں۔مگر میرے مقابلہ پر قاضی فیض اللہ خلف الرشید قاضی ظفر الدین مرحوم یقین کے ساتھ کہتا ہے کہ مرزا صاحب جھوٹا اور ان کا دعویٰ بالکل گھڑا ہوا۔اور خود تراشیدہ ہے۔اس لئے میں قاضی صاحب کے مقابلہ میں مباہلہ کرتا ہوں۔اور پورا پورا اور کامل یقین مجھے ہے کہ جو ہر دو میں سے جھوٹا ہوگا۔اللہ تعالیٰ اس پر عذاب الیم نازل کرے گا۔زمین آسمان ٹل جائیں گے۔لیکن یہ عذاب یقینا نہیں ملے گا۔اور وہ اپنی چمکا ر دکھا کر رہے گا۔کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ہمیشہ سے یہ قانون جاری ہے۔اور آخری و بہتر اور اولی طریق کذب اور راستی میں تفریق کرنے کا ہے۔پس خدا سے میری دعا ہے کہ بقیه حاشیه : پس قاضی ظفر الدین جو نہایت درجہ اپنی طینت میں خمیر انکار اور تعصب اور خود بینی رکھتا تھا۔اس نے اس قصیدہ کا جواب لکھنا شروع کیا تا خدا کے فرمودہ کی تکذیب کرے پس ابھی وہ لکھ ہی رہا تھا کہ ملک الموت نے اس کا کام تمام کر دیا۔