اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 132 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 132

132 (۱۶) والد صاحب مرحوم نے ایک سفید قطعہ زمین پرائمری سکول کے پاس فصیل پر خرید لیا لیکن وہ خواہش رکھتے تھے کہ کاش کوئی جگہ حضرت مسیح موعود کے قرب میں مل جاتی۔ان کی وفات کے بعد میں نے اس جگہ پر مکان بنوانا شروع کیا۔خندق کی کچھ زمین شاملات سمجھتے ہوئے مکان میں شامل ہو گئی۔یہ مکان آج کل میرے شہر والے مکان سے ملحق ہے اور میری ہمشیرہ امتہ الرحمن صاحبہ مرحومہ کا مکان کہلاتا ہے۔جب وہ مکان بن رہا تھا تو مرزا اکرم بیگ صاحب نے آ کر روک دیا۔میں نے حضرت خلیفہ اول سے جا کر عرض کیا آپ نے ان کو سمجھایا لیکن کامیابی نہ ہوئی۔پھر میں نے حضرت عرفانی صاحب سے ذکر کیا۔وہ مجھے لے کر نواں پنڈ (یعنی موضع احمد آباد نزد کوٹھی دارالسلام۔مولف ) مرزا صاحب کے پاس پہنچے۔عرفانی صاحب نے ان سے بہت کچھ کہا اور اپنی طرف سے پورا زور لگایا۔لیکن وہ نہ مانے۔ہم نا امید ہو کر بیٹھے رہے کہ اتنے میں حضرت خلیفہ اسیح اوّل کا ایک شاگرد وہاں آپہنچا۔اس نے حضرت مسیح موعود کا ایک رقعہ بنام مرزا غلام اللہ صاحب مرحوم مختار مرزا اکرم بیگ صاحب ان کو دیا۔مرزا غلام اللہ صاحب نے خود پڑھ کر مرزا اکرم بیگ صاحب کو وہ رقعہ دے دیا۔انہوں نے رقعہ پڑھا اور کہا اب اس خط کے بعد میں بول نہیں سکتا۔اب ہماری مجال نہیں کہ کچھ کہیں۔جاؤ مکان بنالو۔رقعہ خاصہ لمبا تھا۔اور اس میں لکھا ہوا تھا کہ مرزا اکرم بیگ صاحب کے والد (مرزا اعظم بیگ صاحب) مخلص تھے۔اور مرزا اکرم بیگ صاحب بھی احمدی ہیں۔آپ ان کو سمجھائیں کہ باہر سے آنے والوں کے ساتھ ہمیں نرمی کرنی چاہئے۔ان کو مکان بنانے سے روکنا مناسب نہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ حضرت خلیفہ اول نے حضرت اقدس سے ذکر کیا ہوگا۔جس پر حضور نے رقعہ لکھ کر حضرت خلیفہ اول کے پاس بھجوایا۔اور پھر انہوں نے اپنے کسی شاگرد کے ہاتھ یہ رقعہ نواں پنڈ بھجوا رض دیا تھا۔حضور کا وہ رقعہ مدت تک میرے پاس رہا۔لیکن اب پتہ نہیں شاید قادیان میں ہی رہ گیا ہوگا۔“ نوٹ :۔یہ روایت خاکسار مولف کے نام قاضی صاحب کے ایک خط اور قاضی عبد السلام کی ان سے شنیدہ ایک روایت کا مرکب ہے۔قاضی عبدالسلام صاحب بتاتے ہیں کہ یہ پہلا مکان کچی اینٹ کا تھا۔جو حضرت عرفانی صاحب والی گلی میں احمد یہ چوک سے نکل کر شہر سے جانب شمال جاتے ہوئے۔اس گلی کے دائیں ہاتھ کا