اصحاب احمد (جلد 6) — Page 133
آخری مکان تھا۔133 (۱۷) آپ ۱۷ / فروری ۱۹۰۴ء کی ڈائری میں لکھتے ہیں: آج حضرت ابویم صاحب کا قادیان سے کارڈ آیا کہ گھر میں خیریت ہے۔آپ حضرت اقدس کے ساتھ گورداسپور مقدمہ پر جاتے ہیں۔مقدمہ کے آثار بظاہر سخت رڈی ہیں۔الہام مبشر ہوتے ہیں۔جیسے تر نصراً عند الله آج رات حضرت نے خواب بیان فرما یا کسی نے کہا کہ 66 جنگ بدر کا قصہ مت بھولو “ * ۱۸۔ایک شوخ و گستاخ پر دست بدست مواخذه الهی : قاضی عبدالرحیم صاحب بیان کرتے تھے کہ : اہلیہ چراغ دین جمونی کی تذلیل) واقعہ * * کے قریباً ایک سال بعد ( گویا ۱۹۰۷ء میں ) یہ واقعہ ہوا کہ خاکسار عام طور پر عشاء کے بعد اپنے مکان کے آگے محلہ والوں کو تبلیغ کیا کرتا تھا۔اور ایک مجلس لگ جایا کرتی تھی۔ایک دن ایک ہند و جو پرلے درجے کا مفتن تھا۔اس نے ایک ایسی بات کہی۔جس کے جواب میں مجھے مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی مثال کسی نبی کی مثال سے دینی پڑی۔اس پر اس شخص نے مجلس کے مسلمانوں کو اشارہ کیا۔اور اس میں سے ایک ملاح نے جو وہاں جموں کے ایک گھاٹ کا ٹھیکیدار تھا۔اور بڑا زبان دراز تھا۔یہ کہنا شروع کر دیا کہ مرزا کی مثال نبیوں سے دیتا ہے اور اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اور مجھے سخت گندی گالیاں دینی شروع کر دیں اور مجھے گلے سے پکڑ لیا۔اور اس کشمکش میں میرا نہ بند بھی کھل گیا۔اگر چہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے ستر پوشی قائم رہی۔اس وقت مجھے اپنی کسی رسوائی اور تکلیف کی تو حسن نہ تھی۔مگر حضور علیہ السلام کی شان میں اس کی بدزبانی سے سخت درجہ دکھ ہوا۔اور اکثر حصہ رات کا بے چینی میں گذرا۔خدا تعالیٰ کی شان دیکھیئے کہ رات کو یک دم بارش ہوئی اور زور کی بارش ہوئی۔اور انگلی صبح کے اول * عربی الهام آخر دسمبر ۱۹۰۳ء کا ہے۔( تذکر ص ۵۰۹) اردو الہام خاکسار مؤلف پہلی دفعہ شائع کر رہا ہے۔** یہ واقعہ قاضی صاحب کی روایت نمبر ۲۰ میں درج ہے۔