اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 106 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 106

106 ان سے کچھ امتیاز رکھے۔کیونکہ اگر بالکل ان جیسا ہی لباس پہن لے تو پھر ان کیلئے کوئی توجہ کرنے کی وجہ نہیں ہوتی۔میں وہاں پگڑی رکھتا تھا۔لیکچروں اور ملاقات کے وقت پگڑی ہی ہوتی تھی۔البتہ جب کسی دکان میں کچھ خریدنے کیلئے جاتا تو اس وقت ٹوپی پہن لیتا تھا۔کیونکہ اگر پگڑی رکھے ہوئے دکان میں جائیں تو وہ لوگ خیال کرتے ہیں کہ یہ کوئی راجہ یا مہا راجہ ہے جو اپنے طرز کو نباہ رہا ہے اور اس پر مطلق ہمارے لباس وغیرہ کا اثر نہیں ہوا۔اس پر ہوا۔اس غلط فہمی میں اندیشہ ہوتا تھا کہ شاید وہ اشیاء کی قیمت معمولی سے زیادہ نہ وصول کر لیں۔پس میرا یہ طریق تھا کہ خرید وفروخت کے وقت ٹوپی اور باقی وقتوں میں پگڑی رکھتا تھا۔وہاں جو کچھ کام ہوتا تھا اس کی میں با قاعدہ رپورٹ حضرت خلیفہ اسیح کے حضور بھیجتا رہتا تھا۔مگر جب ۱۹۱۷ء میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب پہنچ گئے تو پھر حالت ہی بدل گئی۔کام بڑے پیمانے پر شروع ہو گیا۔اور خدا کے فضل سے ہمیں دن بدن کامیابی ہونے لگی۔اور ہندوستان کے اخبارات میں ہماری رپورٹیں با قاعدہ شائع ہونے لگیں۔اب خدا کے فضل سے ہمارا ذاتی مکان وہاں ہو گیا ہے۔مکان کے باہر موٹا لکھا ہوا ہے۔المسجد اور پر لکھا ہے اِنَّ الدِّينَ عِندَ اللهِ الْإِسلام۔پھر اس کے نیچے لکھا ہے۔اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُوْلُه۔یہ بھی ہمارے اشتہار کا ذریعہ ہے۔بہت سے لوگ ملاقات کیلئے آتے ہیں۔کچھ ان میں سے ہدایات پاتے ہیں اور کچھ قریب ہو جاتے ہیں اور کچھ جیسے آتے ہیں ویسے کے ویسے ہی واپس چلے جاتے۔۔وہاں جا کر معلوم ہوا کہ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو ہدایت ہوتی ہے۔“ (62)۔ہیں۔مالی خدمات : آپ کو بفضلہ تعالی بہت سی مالی خدمات سلسلہ کا بھی موقعہ ملا ہے۔مثلاً (1) آپ کی خوش قسمتی ہے کہ منارہ مسیح کی تعمیر کا چندہ دینے کے باعث آپ کا نام وہاں اس طرح کنندہ ہے۔’۱۴۹۔قاضی عبد اللہ بی۔اے قادیان“ (۲) تشخیذ الاذہان کی خدمت کا بھی موقع ملا۔مثلا رسیدات زرکیلئے دیکھئے سرورق ہائے ص۲ رسالہ جات بابت اگست د ستمبر ۱۹۰۹ ء - دسمبر ۱۹۱۳ ء و جولائی ۱۹۱۴ ء۔سرورق ص ۴ رساله اپریل مئی ۱۹۰۹ ء سر ورق ص ۳ رساله