اصحاب احمد (جلد 6) — Page 98
98 ڈرانا نہیں۔ہر ایک بات نرمی سے ہونی چاہئے۔میرا اس سے یہ مطلب نہیں کہ صداقت کو چھپائیں۔اگر آپ (ایسا) کریں گے۔تو یہ اپنے آپ کو تباہ کرنے کے برابر ہوگا۔حق کے اظہار سے کبھی نہ ڈریں۔میرا اس سے یہ مطلب ہے کہ یورپ بعض کمزوریوں میں مبتلا ہے۔اگر عقاء ید صحیحہ کو مان کر کوئی شخص اسلام میں داخل ہونا چاہتا ہے۔لیکن بعض عادتوں کو چھوڑ نہیں سکتا۔تو یہ نہیں کہ اس کو دھکا دے دیں۔اگر وہ اسلام کی صداقت کا اقرار کرتے ہوئے اپنی غلطی کے اعتراف کے ساتھ اس کمزوری کو آہستہ آہستہ چھوڑنا چاہے تو اس سے درشتی نہ کریں۔خدا کی بادشاہت کے دروازوں کو بند نہ کریں۔دو لیکن عقاید صحیحہ کے اظہار سے کبھی نہ جھجکیں۔جو حق ہوا سے لوگوں تک پہنچا دیں اور کبھی یہ نہ خیال کریں کہ اگر آپ حق بتائیں گے تو لوگ نہیں مانیں گے۔اگر لوگ خود نہ مانیں تو نہ مانیں۔لوگوں کو ایماندار بنانے کے لئے آپ خود بے ایمان کیوں ہوں؟ کیا احمق ہے وہ انسان جو ایک زہر کھانے والے انسان کو بچانے کیلئے خود زہر کھالے۔سب سے اول انسان کیلئے اپنے نفس کا حق ہے۔پس اگر لوگ صداقت کو سُن کر قبول نہ کریں تو آپ نفس کے دھو کے میں نہ آئیں کہ آؤ میں قرآن کریم کو ان کے مطلب کے مطابق بنا کر سناؤں۔ایسے مسلمانوں کا اسلام محتاج نہیں۔یہ تو مسیحیت کی فتح ہوگی نہ کہ اسلام کی۔جس نقطہ پر آپ کو اسلام کھڑا کرتا ہے۔اس سے ایک قدم آگے پیچھے نہ ہوں اور پھر دیکھیں کہ فوج در فوج لوگ آپ کے ساتھ ملیں گے۔وہ شخص جو دوسرے کو اپنے ساتھ ملانے کیلئے حق چھوڑتا ہے۔دشمن بھی اصل واقعہ پر اطلاع پانے پر اس سے نفرت کرتا ہے۔کھانے پینے پہننے میں اسراف اور تکلف سے کام نہ لیں۔بے شک خلاف دستور بات دیکھ کر لوگ گھبراتے ہیں۔لیکن ان کو جب حقیقت معلوم ہو اور وہ سمجھیں کہ یہ سب انقاء کی وجہ سے نہ کہ غفلت کی وجہ سے ہے۔تو ان کے دل میں محبت اور عزت پیدا ہو جاتی ہے۔”ایسا مارا ہوا جانور جس کو گردن کے اوپر تلوار مار کر مارا گیا ہو یا دم گھونٹ کر مارا گیا ہو۔کھانا جائز نہیں قرآن کریم میں آیا ہے اور مسیح موعود سے ولایت جانے والوں نے پوچھا تو آپ نے منع فرمایا۔پس اسے استعمال نہ کریں۔ہاں اگر یہودی یا عیسائی گلے کی طرف سے ذبح کریں تو وہ بہر حال جائز ہے۔خواہ تکبیر کریں یا نہ کریں۔آپ بسم اللہ کہہ کر اسے کھالیا