اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 89 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 89

89 مع اہل وعیال بریلی (یوپی) سے ہجرت کر کے قادیان آگئے تھے۔جب کہ ان کی بڑی صاحبزادی عائشہ بانو صاحبہ کی شادی ہمارے مکرم ماسٹر عبدالرحیم صاحب نیر سے ہو چکی تھی۔پھر انہوں نے شروع فروری ۱۹۰۸ء میں اپنی دوسری لڑکی کلثوم بانو کا نکاح خاکسار سے کر دینے کی خواہش کا اظہار جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے کیا تو حضور انور علیہ السلام نے پسندیدگی کا اظہار فرماتے ہوئے میرے متعلق فرمایا کہ وو ” بظاہر صالح نو جوان ہے“ سوفروری ۱۹۰۸ء میں حضرت مولانا مولوی نور الدین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسجد اقصیٰ میں اعلان فرمایا۔الـحـمـد لله - (43) یہ بی بی صحابیہ ہیں۔بڑی نیک اور پارسا تھیں۔مگر دماغی عارضہ میں مبتلا ہوگئیں۔ان کی آہ وزاری کوشن کر ہمارے وہاب مولا کریم نے اپنے خاص فضل اور رحم سے ۱۵ فروری ۱۹۲۸ء کو ان کے بطن سے خاکسار کو امتہ الوہاب نام بیٹی عطا کی۔الحمد للہ ثم الحمدللہ۔خاکسار کی اہلیہ ثانی کا نام امتہ الرشید بنت ڈاکٹر عطاء محمد خاں صاحب مرحوم سکنہ موضع کھرل ضلع ہوشیار پور ہے۔۱۹۲۷ء میں شادی ہوئی تھی۔ان سے کوئی اولا د نہیں۔یہ صحابیہ نہیں۔نہ ان کے والد مرحوم صحابی تھے۔البتہ ان کی والدہ (میری ساس) نواب بی بی ہمشیرہ چوہدری محمد اسماعیل صاحب نمبر دار موضع بگول ضلع گورداسپور بہت مخلص صحابیہ ہیں۔چوہدری محمد اسماعیل صاحب مرحوم اپنی ہمشیرہ کے ساتھ اکثر قادیان آیا کرتے تھے۔نمبردار صاحب کے گاؤں بگول کا اکثر حصہ احمدی جماعت میں شامل تھا۔مولوی ناصرالدین عبداللہ صاحب مرحوم فاضل سنسکرت ( پروفیسر جامعہ احمدیہ قادیان) جنہوں نے بنارس جاکر سنسکرت کی اعلی تعلیم حاصل کی تھی۔وہ چوہدری صاحب کے ہی بھیجے تھے۔“ خلافت ثانیہ کی اولین شوری قبل ازیں ذکر ہو چکا ہے کہ یہ دونوں بھائی خلافت ثانیہ کے قیام پر اپنے ایمانوں کو سلامت رکھتے ہوئے ہر فتنہ سے بفضلہ تعالیٰ محفوظ رہے اور اولین شوریٰ میں جو نظام جماعت کے استحکام کیلئے طلب کی گئی تھی۔شامل ہوئے۔