اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 8 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 8

8 بملا زمان سلطان که رساند این دعا را که به شکر پادشاہی زنظر مراں گدا را راقم الحروف قاضی ضیاءالدین عفی عنہ از کوٹ قاضی تحصیل وزیر آباد (ضلع گوجرانوالہ ) محرره ۷ فروری ۱۸۸۵ء اس تحریر کا ذکر حضرت عرفانی صاحب نے بھی الحکم ۳۴-۵-۷ میں کیا ہے۔قاضی عبدالسلام صاحب فرماتے ہیں کہ مندرجہ بالاتحریرہ میں نے بھی مسجد اقصیٰ میں دیکھی ہوئی ہے۔وہ ایک مدت تک دیوار پر محفوظ رہی۔پھر سفیدی کے نیچے دب گئی۔گیارہ سال کے بعد دیوار ہی سے روز نامچہ میں نقل کرتے ہوئے حضرت قاضی صاحب تحریر کرتے ہیں۔نقل کتبه طاقچه مسجد جامع قادیان که راقم الحروف مسکین ضیاء الدین عفی عنہ بتاریخ ۷ فروری ۱۸۸۵ء بار اول که در آنجا رسید حسب حال خود نوشته بود و فی الحال ۱۳/ جنوری ۱۸۹۶ نقل از آن برداشته شد۔و هو هذا۔حضرت قاضی صاحب کے دل سے نکلی ہوئی مخلصانہ خواہش کو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمایا چنا نچہ آپ آخر پر تحریر فرماتے ہیں: بارے الحمد للہ الحمد للہ کہ حسب رضائے نکمی ، عاجز چند بار نظر حضرت ممدوح بدمیں رقیمہء سوزناک افتاد۔چنانچہ از زبان بعض احبائے بوضوح پیوستہ۔وایس شمه از اخلاص که به نسبت شرائع احکام در دل خود مشاہدہ میر دو برکت ہماں تو جہات عالیه است - در مجالس متعدد فرمودند که ما اورا اکثر یاد میداریم اودوست ماست- بریں مژده گرجان نشانم رواست که این مژده آسائیش جان است الحمد لله من احسانہ : قاضی عبدالرحیم صاحب سناتے تھے کہ ایک دفعہ والد صاحب نے خوشی سے بیان کیا کہ میں وضو کر رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے آپ کے خادم حضرت حافظ حامد علی صاحب نے میرے متعلق دریافت کیا کہ یہ کون صاحب ہیں۔تو حضور نے میرا نام اور پتہ بتاتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ اس شخص کو ہمارے ساتھ عشق ہے۔چنانچہ قاضی صاحب اس بات پر فخر کیا کرتے اور ( تعجب سے ) کہا کرتے تھے کہ حضور کو میرے