اصحاب احمد (جلد 6) — Page 87
87 حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ “ کے موافق دونوں جہانوں کی بھلائی کا خیال مدنظر نہ رکھیں گے۔کیوں نہیں؟ ضرور رکھیں گے۔سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را قاضی صاحب بیان کرتے ہیں کہ : مسکین قاضی ضیاءالدین عفی عنہ 9 جنوری ۱۹۰۱ء انجمن سے مجھے تین روپے وظیفہ ملتا تھا۔جس میں سب اخراجات برداشت کرنے ہوتے تھے۔کھانا میں گھر میں کھاتا تھا۔والد ماجد کے ۱۵ / مئی ۱۹۰۴ء کو انتقال ہونے کا حضرت اقدس کو گورداسپور علم ہوا۔تو حضور نے حضرت مفتی محمد صادق صاحب کو فرمایا کہ میاں نجم الدین صاحب انچارج لنگر خانہ کو لکھا جائے کہ قاضی ضیاء الدین صاحب کے بعد ان کےلڑ کے قاضی عبداللہ صاحب کا کھانالنگر سے جاری کیا جائے اور کبھی بند نہ کیا جائے۔یہ حکم نامہ بطور تبرک میرے پاس لمبے عرصہ تک رہا۔کئی دوستوں نے اسے دیکھا افسوس ہے کہ قادیان سے (۱۹۴۷ء کی ہجرت کے موقعہ پر ) آتے ہوئے یہ غائب ہو گیا۔جس کا مجھے بے حد رنج ہے۔میں سمجھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے قدیم مخلص کی وفات پر اس کے بیٹے کیلئے ہمیشہ کیلئے انتظام فرما دیا تا کہ وہ عہد پورے طور پر پورا ہو جائے۔جو حضور علیہ السلام نے اپنے خط میں ہجرت کی اجازت دیتے ہوئے تحریر فرمایا تھا۔“ آپ کی اہلی زندگی : آپ کے رشتہ کیلئے مندرجہ ذیل خط کے ذریعہ مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے سید عزیز الرحمن صاحب رضی اللہ عنہ کو تحریک کی تھی۔سید صاحب ایک بہت ہی بزرگ انسان تھے اور سلسلہ کیلئے انہوں نے بہت قربانی کی تھی۔د مگر می اخویم سید عزیز الرحمن صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبر کاتہ۔قاضی عبداللہ ہمارے ایک نو جوان دوست ہیں جو اس سلسلہ کے ایک بڑے مخلص قاضی ضیاء الدین صاحب مرحوم کے لڑکے ہیں۔ان کے زیادہ حالات لکھنے کی مجھے ضرورت نہیں۔کیونکہ غالباً آپ کو بھی کچھ معلوم ہوگا۔اور زیادہ ضرورت ہو تو ** سورة البقره - آیت ۲۰۲