اصحاب احمد (جلد 6) — Page 79
79 محترمہ امتہ الرحمن رضی اللہ تعالی معما حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کے ہاں محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ کی ولادت ۷ بھادوں سمہ ۱۹۳۵ کو ہوئی۔پہلے ذکر ہو چکا ہے کہ قاضی صاحب جب ہجرت کر کے قادیان چلے آئے تو یہ بھی ساتھ تھیں اور ان کو دارا مسیح میں سیدہ حضرت ام المومنین کی خدمت میں رہنے کا شرف حاصل ہوا۔آپ کا نام فاطمہ تھا۔جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تبدیل کر کے امتہ الرحمن کر دیا تھا۔بیان کرتی تھیں کہ حضرت اقدس کے اندرون خانہ بستر وغیرہ کرنے کی ڈیوٹی میرے سپر دہی تھی۔اکثر حضور کے بستر پر سے روپے ملتے۔جونذ روغیرہ کی صورت میں آتے تھے۔اور حضور کو بھول جاتے تھے۔وہ میں اٹھا کر حضرت ام المومنین کو دیا کرتی تھی۔نیز کئی ذوقی باتیں بیان کرتی تھیں۔جون انشاء میں اپنی والدہ کے ہمراہ ہجرت کر کے آئیں اور ۵ دسمبر ۱۹۰۴ ء کو ان کا نکاح ہوا۔گویا قریباً ساڑھے تین سال تک دارا مسیح میں قیام اور حضرت اقدس کے ہاں خدمت گزاری کی توفیق پائی۔حضرت قاضی صاحب کی وفات کے بعد ان کے رشتہ کے متعلق مشورہ کیلئے قاضی عبدالرحیم صاحب نے حضرت اقدس کی خدمت میں ذیل کا عریضہ ارسال کیا۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده و نصلی علی رسوله الكريم السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ سیدی۔حضور نے غلام کی ہمشیرہ امتہ الرحمن کے رشتہ کیلئے اپنے رشتہ داروں میں کوشش کرنے کیلئے فرمایا تھا۔سو عاجز نے مطابق حکم حضور اپنے قبیلہ میں ہر چند کوشش کی ہے۔کوئی صورت خاطر خواہ میسر نہیں آئی۔جو خواہاں ہیں وہ حضور کے مخالف ہیں۔مخالفوں سے تعلق قائم کرنا پسند نہیں۔عاجز کی گزارش ہے کہ اس معاملہ کو زیادہ ملتوی نہ رکھا جائے۔حضور جس جگہ مناسب سمجھیں تجویز فرما دیں۔عاجز کو کل جناب نواب ( محمد علی خان۔ناقل ) صاحب نے بھی جلدی کرنے کی تاکید کی ہے اور دیر کو بہت مکر وہ خیال کیا ہے۔چند آدمیوں کا انہوں نے نام بھی لیا ہے اور ان کی شرافت کی بہت تعریف کی ہے۔ان میں سے ایک اخویم احمد نور کا بلی بھی ہیں۔احمد نور صاحب کی طرف کبھی کبھی والد صاحب مرحوم بھی خیال کیا کرتے تھے۔مگر محض اللہ۔حضور جیسا مناسب جانیں اور جہاں بہتر سمجھیں تجویز کر دیں۔مگر جلدی