اصحاب احمد (جلد 6) — Page 49
49 تہجد گذاری رقت قلب اور انکسار : قاضی عبدالرحیم صاحب بیان کرتے تھے کہ والد صاحب نے بتایا تھا کہ میں نے تہجد کی نماز چھوٹی عمر میں پڑھنی شروع کی تھی اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ناغہ بھی نہیں کیا۔آپ کی طبیعت میں بے حد سوز و گداز ودیعت ہوا تھا۔اور آپ بہت رقیق القلب تھے۔جیسا کہ زیر عنوان سابقہ آپ کے اقتباسات سے ظاہر ہے اور اس عبارت سے بھی جو آپ نے پہلی بار حضور کی زیارت کے موقعہ پر ۱۸۸۵ء میں مسجد اقصی کی دیوار پر رقم کی تھی۔آپ ہجرت کے بعد ستمبر ۱۹۰۲ ء میں ایک بار پھر اپنے وطن غالبا بقیہ سامان وغیرہ لینے گئے تھے۔۴ رستمبر کی تاریخ میں لکھتے ہیں: اپنی قدیم حویلی کے صفہ کے دروازے کو جب روانہ ہوتے ہوئے عاجز نے قفل لگایا۔اس خیال سے کہ اب مجھے کیا معلوم ہے کہ اس قفل کوکھولونگا۔اس قدر رقت دل بیدل پر ہوئی کہ سوائے خدا کے اس غم کی لذت کو کوئی نہیں سمجھ سکتا۔“ آپ رقیق القلب ہونے کے علاوہ بہت منکسر المزاج بھی تھے۔حقیقت یہ ہے اباء واستکبار ہی دین کی تباہی اور الہی سلسلہ کو نہ قبول کرنے کی جڑھ ہیں۔آپ اپنے تئیں ہمیشہ مسکین ضیاء الدین“ لکھتے تھے۔اور یہ انکسار کا اظہار بنی بر حقیقت تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے مسیح کو بمقام گورداسپور دعاء کے جواب میں جو وحی فرمائی وہ یہ تھی۔وو وہ بیچارہ فوت ہو گیا ہے“ (31) گویا کہ اللہ تعالیٰ نے بھی مسکین کا مترادف لفظ بیچارہ استعمال فرمایا ہے۔اس سے میں اندازہ کرتا ہوں کہ ان کے ایمان کی جڑھ یہ انکسار ہی تھی۔جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی کے ذریعہ نمایاں فرمایا ہے۔مجھے بوقت نظر ثانی حضرت عرفانی صاحب کے آپ کے متعلق مندرجہ ذیل الفاظ دستیاب ہوئے ہیں۔آپ فرماتے ہیں۔نہایت مسکین طبع اور منسکر المزاج تھے۔ہمیشہ اپنے نام کے ساتھ مسکین“ کا لفظ لکھا کرتے تھے۔“ (32) یوں تو ہر انسان اللہ تعالیٰ کی ذات کے اعتبار سے بیچارہ ہے۔لیکن فـعـل الـحـكـيــم لا يخلوا عن الحكمة کے مطابق خاکسار مؤلف کے نزدیک الہام میں بیچارہ " کا لفظ بعض حکمتوں کے ماتحت ہی آیا ہے۔