اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 50 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 50

50 *۔ایک تو معلوم ہوتا ہے کہ حضور نے ایسے سوز اور درد سے دعا کی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ نے تعزیت کے طور پر بتایا کہ اے مسیح ! جس کی شفایابی کیلئے آپ نے دعا کی ہے وہ بیچارہ تو فوت ہو چکا ہے۔دوسرے تعزیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے قاضی صاحب کے متعلق ترحم کا اظہار کیا ہے۔محاورہ میں بیچارہ“ کا لفظ اظہار ترتم کے لئے مستعمل ہے۔تیسرے قاضی صاحب کی طبیعت میں جو انکسار تواضع اور فروتنی پائی جاتی تھی۔اس کا بھی اظہار ہوا ہے۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے مقربین کی دلداری کرتا ہے اور مقربین کے اقارب کی بھی دلداری کرتا ہے۔تا ان کے نیک خاتمہ کے باعث وہ عباد شکور نہیں اور صبر جمیل کی توفیق پائیں اور بعد میں آنے والوں کے قلوب میں ایسے مراتب رفیعہ کے حصول کیلئے تڑپ پیدا ہو۔واللہ اعلم بالصواب۔نذرانہ اور چندہ اوراق سابقہ میں قاضی صاحب کے نذرانوں کا ذکر کیا جا چکا ہے۔روز نامچہ میں یہ بھی مرقوم ہے کہ آپ نے دس روپیہ چندہ منارۃ اُسیح کے لئے دیا۔آپ کے ذاتی روز نامچہ میں متعد دمقامات پر ہم یہ ذ کر پاتے ہیں۔بخدمت امام الوقت۔چنده " روز نامچه مدرسہ تعلیم الاسلام بابت مارچ ۱۹۰۱ء میں آپ کے چندہ کی وصولی درج ہے۔(33) اور روز نامچہ اپریل 1901ء میں آپ کے اور آپ کی معرفت قاضی محمد یوسف صاحب کے چندہ کی وصولی مذکور ہے۔(34)۔یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے گاؤں کے احمدیوں کا چندہ آپ کے زیرا ہتمام مرکز میں وصول ہوتا تھا۔ہجرت کے بعد بھی بعض ہم وطن آپ کی معرفت چندہ ادا کرتے تھے۔جیسے احکم کا چندہ مولوی احمد دین صاحب نے آپ کی معرفت ادا کیا۔(35) احباب سے یہ امرمخفی نہ رہے کہ اس وقت جماعت کی اکثریت قلیل آمدنی والے افراد پر مشتمل تھی اور آغاز میں غرباء ہی کثرت سے الہی سلسلہ کو قبول کرتے ہیں۔نیز اللہ تعالیٰ نے یہ اصل بیان فرما دیا ہے۔لَنْ يَنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاءُ هَا وَلَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ *۔اور یہی تقویٰ کی روح ہی حیرت انگیز انقلاب پیدا کرتی ہے اور اس کے اثرات بہت دیر پا اور دور رس ہوتے ہیں۔اسلام جاں بہ لب تھا۔جس کا احیاء حضرت اقدس کے ہاتھوں ہور ہا تھا۔اس وقت جو جو کا ایک دانہ بھی زندگی بچانے کیلئے پیش کرتا۔وہ جواہر کے دانہ بلکہ کروڑی جواہرات سے بھی زیادہ قابل قدر تھا۔جو بعد میں کبھی پیش کئے جاتے۔جب کہ اسلام کی ایسی حالت مبدل بہ خیر سورة الحج - آیت نمبر ۳۸