اصحاب احمد (جلد 6) — Page 36
36 الوقت مولوی محمد حسین بھی اشاعۃ السنہ کی جلد میں بصفحہ ۳۳۳ لکھتے ہیں۔جس کا خلاصہ یہ ہے کہ مجتہد کے سوائے کوئی ملاں مولوی کسی کی تکفیر پر فتویٰ دینے کا مجاز نہیں۔پس ان قیود سے ثابت ہوا کہ ہمارے ان مسائل مرجوعہ میں کثرت اقوال مفسرین معتبر نہیں راج وہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے حکم صریح سے مسند و مرجح ہو۔ہاں اگر خواہ مخواہ یہ شرط بھی ضروری ہے۔تو آپ کی خاطر مان لیتا ہوں۔بشرطیکہ آپ پہلے کل دنیا کی تفاسیر جو آج تک تالیف ہوئی ہیں۔نام بنام تعداد حصری لکھ بھیجیں تا کہ ترجیح دینے کے وقت دقت نہ ہو۔فی الفور تفسیر میں گن کر کثرت رائے مفسرین سمجھی جائے“۔(ص۱۹) فریق مخالف شرائط میں الجھتا رہا۔اور قاضی صاحب ہر پر چہ میں دلائل منقولی و معقولی تحریر کر کے بھجوا دیتے تا تبلیغ کا موقعہ ضائع نہ جائے۔روئداد مباحثہ کے تئیس صفحات میں سے بمشکل تین صفحات فریق مخالف کے ہیں۔اور بقیہ قاضی صاحب کے۔فریق مخالف کا ایک پرچہ صرف دوسطری ہے۔اخلاقی پہلو اس مباحثہ کا یہ ہے کہ یہ لوگ تم جیسے الفاظ استعمال کرتے تھے۔جس سے ان کی مبتذلانہ حالت اور بازاری پن عیاں ہے۔لیکن قاضی صاحب نہایت بردباری سے ”آپ جیسے الفاظ ہی رقم کرتے رہے۔اس مباحثہ کے متعلق دو امور خاص توجہ کے قابل ہیں۔اول۔میری دانست میں جماعت احمدیہ کے کسی فرد کا یہ اولین مطبوعہ مباحثہ ہے۔دوم۔قاضی صاحب نے جو کچھ لکھا وہ قلم برداشتہ لکھا۔آپ کی علمیت قابل داد اور لائق صد تحسین ہے۔چنانچہ مندرجہ ذیل امور سے آپ کے وسعت مطالعہ کا علم ہوتا ہے۔قاضی صاحب نے قرآن شریف کے حدیث شریف پر مقدم رکھنے کے متعلق بحث کی اور تلویح کے حوالہ سے (1) مخالف فریق کو ملزم گردانتے ہوئے کہا ہے کہ آپ کا ادعا اہل سنت کے اصول کے برخلاف ہے۔(ص۱۰) (۲) قاضی صاحب نے دریافت کیا کہ کیا قرآن مجید اور احادیث احاد بخاری کا انکار مساوی درجہ رکھتا ہے۔اثبات پر جواب پانے پر آپ نے عقائد کی کتب شرح مواقف وغیرہ کا حوالہ دے کر اور پھر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کے اشاعۃ السنہ کا حوالہ دے کر اس امر کی تغلیط کی ہے۔(ص۱۰) (۳) آپ نے ادلہ کی اقسام قطعی الثبوت والد لالہ قطعی الثبوت ظنی الدلالۃ ظنی الثبوت قطعی الدلالۃ اور ظنی الثبوت ظنی الدلالۃ کا ذکر کیا ہے۔(ص۱۴) (۴) وفات مسیح کے ذکر میں امام مالک۔امام ابن قیم اور حضر شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کا ذکر کیا ہے۔(ص۱۴)۔(۵) مسئلہ تکفیر کی بحث کے تعلق میں حدیث جبریل میں مذکور پیج بنائے اسلام کی طرف اشارہ کیا ہے۔اور