اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 35 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 35

35 جس مسجد میں جمع ہو کر نمازیں پڑھتے تھے۔اس میں سے بے عزتی کے ساتھ بدر کئے گئے اور جہاں قیصری باغ میں نماز جمعہ پڑھتے تھے وہاں سے حکماً رو کے گئے تو نہایت تنگ ہوکر مرزائے قادیانی سے اجازت مانگی کہ مسجد نئی تیار کریں تب مرزا نے ان کو کہا کہ صبر کرو۔میں لوگوں سے صلح کرتا ہوں اگر صلح ہوگئی تو مسجد بنانے کی کچھ حاجت نہیں اور نیز اور بہت سی ذلتیں اٹھا ئیں۔معاملہ و برتاؤ مسلمانوں سے بند ہو گیا۔عورتیں منکوحہ مخطوبہ بوجہ مرزائیت کے چھینی گئیں۔مردے ان کے بے تجہیز و تکفین اور بے جنازہ گڑھوں میں دبائے گئے۔وغیرہ وغیرہ تو کذاب قادیانی نے یہ اشتہار مصالحت کا دیا۔(17) مشہور مخالف عبد الحق غزنوی جس نے حضرت مسیح موعودؓ سے امرتسر میں مباہلہ کیا تھا۔(18) اس کے ساتھ اواخر دسمبر ۱۸۹۸ء میں قاضی صاحب کا ایک مباحثہ اپنے گاؤں کوٹ قاضی میں ہوا۔اس کے ساتھ مولوی محمد علی بو پڑی اور دیگر علماء بھی شریک تھے۔( قاضی محمد عبد اللہ صاحب بتاتے ہیں کہ مخالف علماء گھوڑوں پر سوار ہو کر بہت طمطراق سے وہاں آئے تھے اور گاؤں میں اس دن بڑی ہل چل تھی ) حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب نے اس مباحثہ کو ۱۸۹۵ء میں اپنے خرچ پر طبع کروایا۔میاں مولا بخش صاحب سیکرٹری انجمن فرقانیہ لاہور نے اس کی تمہید لکھی ہے۔یہ کتاب " کے سائز پر بیالیس صفحات پر مشتمل ہے۔پہلے آٹھ صفحات تمہید مذکور بالا مختصر روئیداد منجانب قاضی صاحب پر مشتمل ہے۔چھ صفحات میں درخواست برائے فیصلہ ثانی و فیصلہ ثالث اور آخری پانچ صفحات میں حضرت مسیح موعود کی نعت ۲۰×۳۰ ۱۶ چون ز من آید ثنائے سرور عالی تبار عاجز از مدحش زمین و آسمان و هردودار مرقوم ہے۔گویا کہ پرچہ جات مباحثہ تئیس صفحات میں درج ہیں * حقیقت یہ ہے کہ فریق ثانی مباحثہ سے گریز کرتا رہا۔مضمون بحث کو تبدیل کیا۔ایک یہ شرط پیش کی کہ اگر تفسیروں میں اختلاف واقع ہو تو اعتبار کثرت کا ہوگا۔“ (ص۹) حضرت قاضی صاحب نے جو دندان شکن اور مسکت جواب دیا اس کا اک حصہ درج ذیل ہے: تیسری شرط یہ کہ وقت اختلاف کثرت تفاسیر کا لحاظ ہوگا۔چونکہ بلحاظ تحقیق مسائل مرجوعہ لغو مجہول الکنہ تھے۔فضول سمجھے گئے۔دیکھو امام ابن قیم۔۔۔تصریح کر چکے ہیں کہ کسی قیم شخص کو مسلمانوں میں سے کافر کہنا حق خدا اور اس کے رسول کا ہے اور آپ کے امام فی چونکہ یہ رسالہ بہت تھوڑی تعداد میں ترسٹھ سال قبل شائع ہوا اور تقریباً سارا تقسیم کر دیا گیا تھا۔اس لئے اسے محفوظ رکھنے کیلئے کسی کتاب کے ساتھ اسے چھاپ دیا جائے گا۔