اصحاب احمد (جلد 6) — Page 29
29 چنانچہ کتاب مذکور سے ذیل کا اقتباس درج کیا جاتا ہے: حضرت عبداللہ صاحب مرحوم غزنوی کا ایک کشف شیخ محمد حسین بطالوی کی نسبت جس کو جناب قاضی ضیاء الدین صاحب ساکن قاضی کوٹ ضلع گوجرانوالہ نے اپنے کانوں سے سنا اور شیخ صاحب کی طرف محض اصلاح روحانی کیلئے لکھ کر روانہ کیا۔سو وہ ہم اس رسالہ میں درج کرتے ہیں۔اگر چہ شیخ صاحب کی نسبت ہمارا یقین ہے کہ وہ اس سے متنبہ ہونے والے نہیں لیکن ہم ان کے بعض ہم خیال اور محبوں پر ایک قسم کا حسن ظن رکھتے ہیں کہ وہ اس سے فائدہ حاصل کریں گے۔واللہ ولی التوفیق۔وہ کشف ذیل میں درج ہے۔ھوالھادی خاکسار۔سراج الحق نعمانی نحمده ونصلے ”بسم الله الرحمن الرحيم فکر می مولوی محمد حسین صاحب۔بعد شوق ملاقات آنکہ یہ جو آج کل آپ درباره تکفیر و تضلیل حضرت مسیح موعود مرزا غلام احمد صاحب قادیانی ( جن کو آپ پہلے مجدد وقت تسلیم کر چکے ہیں ) سرگرم ہیں اور یہاں تک سرگرمی ہے کہ آپ نے اپنے لکھے ہوئے مضمون کفر وکافر مندرجہ اشاعتہ کی بھی پرواہ نہیں کی۔جس کی شامت سے اب صریح سوء خاتمہ کے آثار ظاہر ہیں۔آپ کی اس حالت کو دیکھ کر عاجز کا دل بلحاظ محت بنی نوع پکھل آیا۔لہذا بحكم الدينُ النَّصِيحَة میں نے چاہا کہ آپ کو اس شیمہ نامرضیہ سے اللہ متنبہ کروں۔شاید اللہ تعالیٰ جو رحیم و کریم ہے رحم فرما دے۔اور اس بارے میں یہ ایک الہام عبداللہ غزنوی مرحوم ہے۔جو آپ کی نسبت ان کو ہوا تھا۔اور اسی زمانہ میں آپ کو سنا بھی دیا تھا۔شاید وہ آپ کو یاد ہو یا نہ ہو۔اب میں آپ کو دوبارہ سناتا ہوں اور مجھے کئی بار تجربہ ہو چکا ہے که مولوی لوگ اپنے ہمعصر کی بات سے گو کیسی ہی مفید ہو کم متاثر ہوتے ہیں اب وہ مرحوم تو فوت ہو چکے شائد آپ ان سے علاقہ بیعت بھی رکھتے تھے۔تعجب نہیں کہ آپ کو ان کے الہام سے فائدہ پہنچے۔عاجز کی غرض سوائے خیر خواہی اور اتفاق بین المسلمین اور کچھ نہیں۔میں حلفاً بیان کرتا ہوں۔وکفی بالله شهیداً۔کہ یہ الہام میں نے خود حضرت مرحوم سے سُنا ہے۔خدا کے لئے جاگتے دل سے سنو وهو هذا۔