اصحاب احمد (جلد 6) — Page 17
17 و۔ا۔۱۲۔۱۳۔نواں سفر ۹ پوہ سمہ ۱۹۵۴ تا ۱۵ ماگھ ۳۶ یوم میں سے ۳۰ یوم حضور کی خدمت میں رہے۔دسواں سفر ۱۳ پوہ سمہ ۱۹۵۵ تا ۲۱ ماگھ۔۳۸ دنوں میں سے ۳۴ دن حضور کے پاس رہے۔گیارھواں سفر ۱۵ کتک سمہ ۱۹۵۶ تا ۲۸ مگھر۔مرقوم ہے کہ ۴۴ دن میں سے ۳۹ یوم حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمت میں بسر ہوئے۔فالحمد للہ علی ذالک اور حضور علیہ السلام کی خدمت میں سات روپے ہدیہ پیش کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔بارھواں سفر ۱۴ چیت سمه ۱۹۵۶ مارچ ۱۹۰۰ ء تا ۷ بیساکھ سمہ ۱۹۵۷-۲۴ دنوں میں سے سترہ دن حضور کی صحبت سے مشرف ہوئے۔( قاضی محمد عبداللہ صاحب کے حالات میں اس سفر کا قدرے تفصیلی ذکر کیا گیا ہے) تیرھواں سفر ۲۱۔سوج سمہ ۱۹۵۷ تا ۱۵۔کا تک۔۲۵ دنوں میں سے اکیس دن حضور کی خدمت میں حاضر ر ہے۔اس سفر کے متن میں لکھتے ہیں : زیادہ محرک و باعث سفر عزیز محمد عالم قاضی کیلئے دعا کروانا تھی۔اور نیز عبداللہ کو ملنا۔اور دراصل باعث جملہ فیض صحبت سے مستفیض ہونا تھا۔دیگر ہمہ بہانہء ملاقات تھے۔اس 66 دفعہ حضرت نے تاکیداً فرمایا کہ یہاں چلے آؤ۔اور عاجز نے بھی منظور کیا۔“ خاکسار مؤلّف عرض کرتا ہے کہ جیسا کہ فہرست مبایعین مندرجہ الحکم میں مندرج ہے۔قاضی محمد عالم انٹرنس پاس تھے۔اور کوٹ قاضی محمد زاہد ضلع گوجرانوالہ کے باشندہ تھے۔عبداللہ سے مراد قاضی محمد عبداللہ صاحب آپ کے فرزند ہیں۔اس سفر کے اخراجات میں دس روپے ”بخدمت حضرت مرزا صاحب بابت چندہ منارہ پیش کرنا تحریر کیا ہوا ہے۔جتنی بار بھی حضور علیہ السلام سے ملاقات کی ہے۔روز نامچہ میں تفصیل خرج سفر میں ہمیشہ کچھ رقم بطور نذرانہ حضور علیہ السلام کی خدمت میں پیش کرنا درج کیا گیا ہے۔چنانچہ ۲۴ نومبر ۱۸۹۵ء کے سفر کے متعلق لکھتے ہیں کہ گیارہ سیر پختہ مصری لاہور سے برائے نذرانہ حضرت اقدس خرید کی اور تفصیل خرچ میں لکھا ہے کہ رات کے گیارہ بجے بٹالہ پہنچے۔اور مسجد بٹالہ میں آرام کیا۔کرایہ ریل از لاہور تا بٹالہ پونے ۱۶ آنہ۔بٹالہ سے صبح ۵ بجے چل کر ۹ بجے قادیان پہنچے۔اور ” بوقت ظہر بعد ادائے نماز مشرف به زیارت شدم نذر نقد دوروپے۔نور القرآن حصہ دوم کے آغاز میں حضرت پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر الوقت تمین ۳ اصحاب کے اسماء درج کئے ہیں۔ان میں حضرت قاضی صاحب کا نام بھی مرقوم