اصحاب احمد (جلد 6) — Page 141
141 وابستہ تھے۔صحابی نہ تھے۔۱۹۳۰ء کے قریب ان کا انتقال ہوا۔اللهم اغفر لہ۔اللہ! اللہ ! کیسا عبرت آموز قصہ ہے۔قاضی ظفر الدین اور اس کے اہل وعیال کا لعنت و نکبت یوں یکے بعد دیگرے تعاقب کرتی ہے کہ جس میں صاف طور پر خدائی ہاتھ کا رفر مانظر آتا ہے۔فَاعْتَبِرُوا يَا أُولِي الْأَبْصَارِ (۱۹) چراغ دین جمونی کا عبرت ناک انجام : پہلا نشان چراغ دین جمونی پہلے احمدی تھا۔پھر شقاوت ازلی نے اسے آگھیرا اور اس نے رسول ہونے کا دعویٰ کیا۔اور اپنا کام یہ بتایا کہ تا عیسائیوں اور مسلمانوں میں صلح کرا دے۔اور قرآن و انجیل کا باہمی تفرقہ دور کر دے اور ابن مریم کا ایک حواری بن کر یہ خدمت سرانجام دے۔اسے بار بار یہ شیطانی الہام ہوئے کہ حضرت اقدسن (معاذ اللہ ) دجال ہیں۔جن کو نیست و نابود کرنے کیلئے وہ مبعوث ہوا ہے۔اس نے اپنی کتاب ” منارۃ اصبح “ میں یہی باتیں لکھیں۔اس کی تالیف کے ایک سال بعد اس نے ایک دوسری کتاب اسبارہ میں تالیف کی۔جس میں مباہلہ کی دعا بھی لکھی۔جب مضمون مباہلہ اس نے کاتب کے حوالہ کیا تو وہ کا پیاں ابھی پتھر پر نہیں جمی تھیں کہ پہلے اس کے دونوں لڑکے اور پھر وہ خود واصل جہنم ہوا۔حضور کو الہا مآ بتایا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ اسے فنا اور غارت کر دے گا۔اور اس پر غضب نازل کرے گا۔حضور نے اس کا ذ کر اپنی کتاب دافع البلاء میں کیا ہے۔اور پیشگوئی پورا ہونے کا ذکر حقیقتہ الوحی صفحات ۳۷۲٬۲۲۰ ۳۷۸ میں کیا ہے۔اور دعائے مباہلہ کا عکس بھی حقیقتہ الوحی میں درج کیا ہے۔اس کے عبرتناک انجام کی خبر اور مباہلہ کی دعا کی اطلاع حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب نے دی تھی جیسا کہ ذیل کی تفصیل سے احباب کو علم ہوگا۔آپ نے حضرت اقدس کی خدمت میں تحریر کیا : وو سیدی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ چراغ دین ساکن جموں مصداق الهام نَزَلَ بِهِ جَبِيرٌ (88) نے دافع البلاء کی اشاعت کے بعد جن جن پیرایوں میں حضور سے عداوت شروع کی تھی وہ چھٹی نہیں۔چنانچہ اس نے ایک کتاب موسوم بہ منارة امسیح شائع کی۔جس میں اس نے اپنے اندرونی بغض کے انگار اُگلے ہیں۔آج کل وہ ایک اور کتاب چھاپنے کا اہتمام کر رہا تھا۔جواوّل الذکر سے بدرجہا بدتر تھی۔زبانی تو ہین کا بھی اس نے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا ہوا تھا۔غرض اس نے اپنے آپ کو ہر طرح سے ملزم ٹھہرالیا۔اور آخرالامر خدا تعالیٰ کے مرسل کے فرمودہ کے مطابق زیر