اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 138 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 138

138 وہ جلد تر نتیجہ پیدا کرے۔اے خدا اے خدا تجھ سے کوئی انہونی بات نہیں اگر تو چاہے تو ایک آن میں عذاب نازل کر سکتا ہے لیکن میں سُنت نبوی کے مطابق ایک سال کی معیاد تجویز کرتا ہوں اور وہ عذاب محض مجھ عاجز پر اور یا قاضی صاحب پر نازل ہونا چاہئے۔مثلاً موت یا طاعون یا کسی مقدمہ میں ماخوذ ہو جانا یہی شرط ہے اور کسی قرابتی اور اپنے کسی متعلق پر کوئی عذاب نازل ہونا یا اس کا مرجانا شرط میں داخل نہ ہوگا اور وہ عذاب صرف ہم دونوں سے مخصوص سمجھا جائے گا۔خاکسار عاجز مہتاب علی سیاح۔جالندھری مورخه ۱۲ جون ۱۹۰۶ء ان بالمقابل تحریروں کے بعد جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ قاضی فیض اللہ خاں مرض طاعون کے ساتھ جیسا کہ جھوٹے کیلئے بدعا کی گئی تھی۔اور نیز سال کے اندر جیسا کہ شرط تھی۔بمقام جموں ہلاک ہو گیا اور بموجب آیت کریمہ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِاِذْنِ اللهِ * مہتاب علی کو خدا نے طاعون سے بچالیا کیونکہ وہ اپنے دعوئی میں صادق تھا اور فیض اللہ خاں طاعون کا شکار ہو گیا۔کیونکہ وہ اپنے دعوی میں کا ذب تھا۔“ (87) حضرت قاضی عبدالرحیم صاحب بیان فرماتے تھے کہ قاضی ظفر الدین اور اس کی اہلیہ دونوں میری دو حقیقی پھوپھیوں کی اولاد تھی۔مگر اللہ تعالیٰ نے قہری نشان کو جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائید میں ہمارے ان عزیزوں کے حق میں ظہور پذیر ہوئے بیان کرنے میں اپنی کوئی ذلت نہیں سمجھتا۔حضرت اقدس نے اعجاز احمدی میں قاضی مذکور وغیرہ کو متکبر قرار دیکر یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ غرور کا سر نیچا ہوگا اور ان کا استیصال ہوگا اور ان پر لعنت پڑے گی۔چنانچہ وہ اور اس کا خاندان بار بار لعنت کا شکار ہوا اور اس کی عزت و ناموس خاک میں مل گئی اور یہ سب کچھ خارق عادت طور پر ہوا۔حضرت قاضی صاحب کا بیان ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔اس میں صرف نمبر شمار خاکسار مؤلف کی طرف سے ہے۔(اول) اعجاز احمدی کے جواب میں قاضی ظفر الدین نے مسودہ تیار کیا۔لیکن اس کی تکمیل نہ کر سکے۔اور سال کی بیماری میں مبتلا ہو گئے اور ایک لمبا عرصہ اس موذی مرض کی تکلیف میں مبتلارہ کرنا کام مر گئے۔* * سورة آل عمران - آیت نمبر ۱۴۶