اصحاب احمد (جلد 6) — Page 134
134 وقت اس ملاح کے دروازے کے سامنے تھانیدار اور سپاہی کھڑے ہوئے سخت گندی گالیاں دے رہے تھے۔اور اس کو گھر سے نکلنے کیلئے بلا رہے تھے۔جب وہ نکلا تو اس کو ہتھکڑی لگا کر تھانے میں لے گئے۔یہاں اس بات کا ذکر کر دینا بھی ضروری ہے کہ ریاست کے تھانیدار گورنمنٹ انگلشیہ کے تھانیدار کی طرح نہیں ہوتے۔اس وقت کے رواج کے مطابق وہ جابر سخت گیر اور بے باک ہوا کرتے تھے۔اس سے اندازہ ہوسکتا۔کہ انہوں نے کس قدر مخش کلامی کی ہوگی۔ہے واقعہ یوں ہوا کہ ٹھیکیدار پابند ہوتے ہیں کہ رات کے وقت دریا سے کسی کو کشتی پر عبور نہ کرائیں۔لیکن عام طور پر اس حکم کی خلاف ورزی ٹھیکیدار اپنے مفاد کیلئے کرتے رہتے ہیں اور اس پر کوئی گرفت نہیں ہو سکتی۔کیونکہ رات کے وقت چوری چوری یہ کام ہوتے رہتے ہیں۔اس رات نواحی علاقے کے چند گوجر اس کے ٹھیکہ کے گھاٹ سے اس کے نوکروں کی معرفت دریا عبور کر رہے تھے کہ بارش کی وجہ سے پہاڑی علاقوں کی طرز پر دریا توی میں یک دم طوفان آ گیا۔اور وہ کشتی قابو سے نکل کر غرق ہوگئی۔اور جیسا کہ سنا گیا۔دو گوجر عورتیں غرق ہو گئیں۔اس جرم کی پاداش میں وہ ٹھیکیدار پکڑا گیا۔اور (اس نے ) اپنی شوخی اور گستاخی کا دست بدست مزہ چکھ لیا۔“ ۱۹۔قاضی ظفر الدین صاحب اور اس کے خاندان پر غضب الہی کا نزول : خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ غضب الہی کے نزول کا ایک حیرت انگیز نظارہ ہم حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کے معاندا قارب میں بھی دیکھتے ہیں۔آپ کے قبول احمدیت پر آپ کا خاندان جو بہت بڑا اور ذی وجاهت افراد پر مشتمل تھا مخالفت پر کمر بستہ ہو گیا۔ان میں آپ کے حقیقی بھانجے قاضی ظفر الدین ( پروفیسر اور مینٹل کالج۔لاہور ) پیش پیش تھے۔یہ ان سر کردہ معاندین میں سے تھے۔جو صاحب علم و فضل سمجھے جاتے تھے۔اور ادب عربی کے رسالہ نیم الصبا کے ایڈیٹر بھی تھے۔جب پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کو حضرت اقدس نے ۲۰ جولائی ۱۹۰۰ء کے اشتہار کے ذریعہ تفسیر قرآن مجید فصیح عربی میں لکھنے کے مقابلہ کی دعوت دی تھی اور فرمایا تھا کہ پیر صاحب ہی تین علماء تجویز کر دیں۔جو ان کے مرید نہ ہوں۔جو حلفاً اپنی رائے ظاہر کریں کہ کس کی تفسیر اور عربی اعلیٰ درجہ کی اور تائید الہی سے ہے۔اس اشتہار کے ضمیمہ میں چھیاسی سجادہ نشین علماء کو بھی دعوت مقابلہ دی تھی۔ان