اصحاب احمد (جلد 6) — Page 119
119 چن دی تھی۔جس کی وجہ سے مہمانان اور طلباء کو مسجد میں آمد ورفت میں بڑی تکلیف ہوتی تھی اور اوپر سے دور کا چکر کاٹ کر آنا پڑتا تھا۔حضور نے اس تکلیف کا احساس فرماتے ہوئے اپنے گول کمرے کا شرقی دروازہ اور سیڑھیوں کے پاس والا دروازہ دونوں کھول دیئے تھے۔تا احباب وہاں سے گذر جایا کریں اور ان کو تکلیف نہ ہو۔(۵) ہم بچوں میں بھی حضور کی خدمت کا بڑا شوق تھا۔ایک دفعہ میں اور میرے ہم جماعت مرحوم ملک محمد حسین ولد ملک غلام حسین صاحب رہتا سی مرحوم نے ارادہ کیا کہ ہم حضرت اقدس کو جبکہ حضور کو ایک اہم تصنیف کے کام کیلئے رات بھر مصروف رہنا تھا۔عشاء کے وقت سے دباتے رہیں گے۔چنانچہ جب حضور روشنی کے سامنے ایک کرسی پر بیٹھے لکھنے میں مصروف تھے۔تو ہم دبانے لگ گئے اور دیر تک دباتے رہے۔جب حضور کو ہماری طرف توجہ ہوئی اور خیال آیا کہ بہت دیر ہوگئی ہے تو فرمایا۔اب تم جاؤ۔ہم نے عرض کیا کہ نہیں حضور۔ہم ٹھہریں گے۔مگر حضور نے ہمیں بھیج ہی دیا۔“ خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ ملک محمد حسین صاحب مرحوم کی دنیوی ترقی کے متعلق حضرت اقدس کی ایک پیش خبری محمد حسین ڈپٹی کمشنر بنے گا“ (77)۔جو غیر معمولی حالات میں پوری ہوئی جبکہ وہ مشرقی افریقہ چلے گئے۔(۶) ان ایام میں حضور احباب کے ساتھ دو پہر کا کھانا بیت الفکر میں اور شام کا کھانا مسجد مبارک کی چھت پر تناول فرماتے تھے۔اور مجھے بھی ہر دو مقامات پر حضور کی معیت میں کھانا کھانے کا کئی بار موقعہ ملا ہے۔فالحمد للہ علی ذالک۔(۷) مسجد مبارک ابھی چھوٹی تھی اور اس کی توسیع نہیں ہوئی تھی۔موسم گرما میں نماز مغرب کے بعد مسجد کے شاہ نشین پر سامنے مغرب کی طرف درمیان میں حضور علیہ السلام تشریف فرما ہوتے اور حضور کے دائیں اور بائیں طرف کونوں میں حضرت مولوی نورالدین صاحب اور حضرت مولوی عبد الکریم صاحب بیٹھتے اور دیگر احباب حلقہ کر کے بیٹھ جاتے۔اور حضور کی ایمان پرور گفتگو سے لطف اندوز ہوتے۔(۸) ایک دفعہ ایک شخص آیا اور اس نے تین سوروپے کا سوال کیا۔اور اس پر بڑا اصرار کیا۔اور قرآن شریف حضور کے زانو پر رکھ دیا۔حضور نے فرمایا ہم اس طرح نہیں دے سکتے۔