اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 103 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 103

103 اور واپس آنے تک وہ رہا۔مرزا نظام الدین صاحب کے باغ کے پاس پہنچے تو دھوپ نکل آئی۔غرض حضرت نے بڑی محبت اور دعاؤں کے ساتھ اپنے خادم کو روانہ کیا ہے۔امرتسر تک شیخ عبدالرحمن صاحب قادیانی اور ماسٹر عبدالرحیم صاحب بھی ہمراہ گئے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ مدراس سے سیلون جائیں گے۔اور وہاں سے لنڈن۔۔۔۔۔۔۔(60)۔جناب قاضی عبد اللہ صاحب کی مُراجعت : میدان مجاہدہ سے واپسی کے متعلق الفضل ( مورخہ ۱/۱۲/۱۹) میں مرقوم ہے: احباب کرام یہ سُن کر نہایت خوش ہوں گے کہ ۲۸ نومبر ۱۹۱۹ء بروز جمعہ جناب قاضی عبداللہ صاحب بی اے۔بیٹی مبلغ اسلام ولایت سے بخیر و عافیت قادیان دارالامان پہنچ گئے ہیں۔چونکہ جناب قاضی صاحب کی ولایت سے روانگی کے متعلق کوئی پختہ اطلاع نہیں مل سکی تھی۔اور نہ ہی بمبئی آکر انہوں نے جو تار حضرت خلیفتہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو دیا۔وہ پہنچا۔اس لئے ان کی آمد بالکل اچانک تھی۔اور اس کا علم اس وقت ہوا جب کہ جناب قاضی صاحب نے مسجد اقصیٰ میں آکر باآواز بلند مجمع کو اسلام علیکم کہا۔نماز جمعہ کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی مسجد میں دیر تک جناب قاضی صاحب سے گفتگو فرماتے رہے۔اس خوشی کے موقعہ پر ہائی سکول اور مدرسہ احمدیہ میں دو دن کی تعطیل کی گئی۔کارگذاری کی ایک جھلک : قریباً پانچ سالہ تبلیغ کا ملخص درج کرنے کا یہ موقعہ نہیں۔البتہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رپورٹ مرسلہ ۲ مئی ۱۹۱۸ء سے ایک اقتباس درج کیا جاتا ہے۔جس سے معلوم ہوگا کہ کس طرح پہلی جنگ عظیم میں گرانی وغیرہ کا بھی مقابلہ کرنا پڑتا تھا۔اس وقت قاضی صاحب دو سال سے مفتی صاحب ایک سال سے لنڈن میں مقیم تھے۔مفتی صاحب تحریر فرماتے ہیں: ” میرے رفیق قاضی عبداللہ صاحب اس موسم سرما میں نہ صرف سردی کی تکلیف کو برداشت کرتے ہوئے بلکہ خوف ناک ہوائی حملوں کے نیچے سر دئے صبر کے ساتھ لنڈن میں جمے رہے۔اور اپنے تبلیغی کام میں مصروف رہے۔خواجہ صاحب کو بھی مباحثہ اور مباہلہ کے واسطے چیلنج دیتے رہے۔مگر جب کبھی خواجہ صاحب نے عرب صاحب کے اصرار سے کوئی وقت