اصحاب احمد (جلد 6) — Page 65
65 افراد ہیں۔چار بڑے اور پانچ بچے قادیان میں آ کر رہنا چاہتے ہیں۔یعنی منصور احمد معہ عیال اور میں معہ اہلیہ اس کی کیا صورت ہے۔؟“ دیکھنے والے کہتے ہیں کہ جب اپریل ۱۹۵۲ء میں سیدہ حضرت ام المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنھا کا انتقال ہو گیا۔قاضی صاحب جو حضرت ممدوحہ کے مزار کی تعمیر کر وار ہے تھے۔آپ کو یہ احساس ہوا کہ ضروری نہیں کہ آپ کو قادیان جانا ضرور ہی نصیب ہو۔آپ قبر کے کنارہ پر چشم گریاں کہنے لگے کہ جب حضرت موصوفہ " جیسی ہستی کیلئے قادیان واپسی کی تقدیر جاری نہیں ہوئی اور ان کا یہیں انتقال ہو گیا ہے تو ہماری کیا ہستی ہے۔گویا اس دن سے آپ ربوہ میں ہی اپنے سفر آخرت کیلئے تیار ہو گئے۔خلافت ثانیہ سے وابستگی : حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب نے بوقت وفات اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ آستانہ مسیح کو ہرگز نہ چھوڑیں۔چنانچہ آپ کی اولا د نے اس پر پوری طرح عمل کیا۔اور یہاں سے جانے کا نام تک نہ لیا۔حتی کہ ۱۹۴۷ء کے خونیں دور میں مجبوراً ہجرت کر کے جانا پڑا۔قاضی عبدالرحیم صاحب بہت ہی ہوشیار اوورسیئر تھے اور باہر نہیں اچھی اچھی ملازمتیں ملتی تھیں۔مگر وہ قادیان سے نہیں ہلے۔حالانکہ آپ پر قادیان میں بعض بڑے بڑے مشکل وقت تنگی کے آئے تھے۔خلافت ثانیہ کی ابتداء میں سلسلہ کی مالی حالت سخت نا گفتہ بہ ہوگئی تھی۔چنانچہ قاضی عبدالرحیم صاحب کی مہتم تعمیرات کی اسامی بھی تخفیف میں آگئی تھی۔دوسری طرف مولوی محمد علی صاحب کی طرف سے انہیں لاہور آجانے کے پیغام آنے لگے۔مولوی صاحب کا قاضی صاحب سے سابقہ سلوک بھی اچھا تھا۔لیکن الحمد للہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے پائے استقلال میں لغزش نہ آنے دی۔اور آپ نے خلافت ثانیہ کے دامن کو اپنے ہاتھ سے نہ چھوڑا۔خلافت اولی کے آخری ایام میں اہل پیغام خلافت کے بارہ میں گونا گوں فتنے پیدا کر رہے تھے۔کبھی حضرت خلیفہ اول کے اختیارات کو محدود کرنے کی کوشش کرتے۔کبھی احکام کی خلاف ورزی کر کے خلافت کے اثر و رسوخ کو کم کرنا چاہتے۔ایک بار آپ کو معزول کرنے کی سعی باطل بھی کی۔حضرت خلیفہ اول خلافت کا مقام اور اس کی اہمیت ان لوگوں کے قلوب میں راسخ کرنے کی کوشش فرماتے تھے۔حضرت خلیفہ اول کی دعاؤں اور مساعی اور جماعت کی دعاؤں اور سب سے بڑھ کر حضرت مسیح موعود کی دعاؤں کے ثمرات اللہ تعالیٰ نے غیر معمولی حالات