اصحاب احمد (جلد 6) — Page 57
57 ہوئی۔قاضی ظفر الدین آف جنڈیالہ باغوالہ جن کا مخالفانہ ذکر حقیقتہ الوحی میں آتا ہے۔وہ آپ کے بھانجے تھے جو مخالفت میں احمدیت اختیار نہ کر سکے۔اور فوت ہو گئے۔ان کا ایک لڑکا قاضی فیض احمد خان بذریعہ مباہلہ ہلاک ہو گیا۔ایک اور لڑکا سیف اللہ خان تھا۔وہ بھی بعد میں جوان ہو کر فوت ہو گیا۔آج ان کا کوئی نام لیوا بھی نہیں۔بچوں سے پیار : ”میری عمر غالبا ۴/۳ سال ہوگی۔جب میں اپنی والدہ کے ساتھ موضع کوٹ قاضی جہاں میرے نانا حضرت قاضی صاحب بعد میں مقیم تھے گیا تو حضرت نانا جی مجھے بہلانے کیلئے خوش الحانی سے سناتے تھے کہ ابن مریم مر گیا حق کی قسم داخل جنت ہوا وہ محترم وغیرہ۔کچھ دیر جب پڑھ کر آپ خاموش ہو جاتے تو میں پھر کہتا کہ ابا جی حق کہو آپ پھر وہی دوہراتے۔جب پھر خاموش ہو جاتے تو میں پھر کہتا کہ حق کہو۔اس پر میری والدہ کچھ کہتیں اور حضرت نانا جی کچھ جواب دیتے۔بعد میں میری خالہ محترمہ امتہ الرحمن صاحبہ بیان کرتی تھیں کہ اس موقعہ پر میں بھی وہیں تھی۔تم واقعی ایسا ہی کہتے تھے۔مگر تمہاری والدہ کہتی تھیں کہ یہ بچہ بار بار یہی کہتا ہے کہ حق کہو حق کہو خدا جانے اس کا مطلب کیا ہے۔تو حضرت والد صاحب انہیں کئی رنگ میں سمجھاتے۔اور واضح فرماتے کہ احمدیت بہر حال حق ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام وفات پاچکے ہیں۔ماتم پرسی : م 190 ء میں جب حضرت قاضی صاحب وفات پاگئے۔ماتم پرسی کیلئے میرے والد صاحب والدہ صاحبہ اور قاضی صاحب کی بھانجی مریم بی بی صاحبہ اپنے وطن سے قادیان گئے۔میں بھی بھر چھ سال ساتھ تھا۔غالباً میرے والد صاحب نے اسی موقعہ پر دستی بیعت کی تھی۔دوسرے یا تیسرے دن جب میری والدہ بنام خدیجہ بی بی صاحبہ جمعہ اپنی ماموں زاد بہن مکرمہ بی بی صاحبہ بغرض ملاقات حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور تشریف لے گئیں۔تو آپ ایک کمرہ میں پلنگ پر پاؤں نیچے کر کے تشریف فرما تھے۔آپ نے فرمایا کہ