اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 56 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 56

56 واقف کاروں سے اپنا حلیہ بیان کر کے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا آدمی دیکھا ہے۔سب نے یہی کہا کہ ہم نے نہیں دیکھا۔چنانچہ گھر آن کر بیان کیا کہ ہم اس سال اللہ تعالیٰ کے پاس چلے جائیں گے۔اس لئے کہ ایسا واقعہ پیش آیا ہے۔چنانچہ غالباً آپ دو ماہ کے اندر ہی فوت ہو گئے۔اور خدا کے پاس چلے گئے۔(۲) چونکہ موضع کوٹ جان بخش ضلع گوجرانوالہ کے لوگ خاص طور پر حضرت ولی اللہ کے بڑے معتقد تھے۔اس لئے وہ عجیب نظارے بیان کرتے تھے۔چنانچہ ایک دفعہ ایک جاٹ اپنے کھیت کے کیارہ کو پانی لگا کر جس کے نزدیک ہی ولی اللہ صاحب کی قبر تھی۔اپنے اعتقاد کی بناء پر یہ کہہ کر پورا نچنت ہو کر سو گیا کہ جب کیا رہ بھر جائے گا۔مقبول خدا اُٹھا دیں گے۔اور جب کیارہ بھر کر اچھلنے والا تھا تو آپ خواب میں اس کے پاس آئے اور سونٹے سے ٹھوکر مار کر کہا۔کہ اٹھ پانی ہمارے سپر د کر کے خود سو گیا۔چنانچہ وہ اٹھا اور دیکھا تو واقعی اچھلنے والا تھا۔مگر سونٹے کی ایسی ٹھوکر (بجھ ) لگی کہ صبح نماز کے بعد کئی لوگوں کو متورم جگہ دکھائی گئی۔جو تین چار دن تک درد کرتی رہی۔لوگ اعتقاد میں مزید بڑھ گئے۔(اضافہ ) تبلیغ حضرت میاں رکن الدین صاحب سکنہ ہر چوکے ضلع گوجرانوالہ جنہوں نے غالباً ۱۸۹۸ء میں بذریعہ مکتوب بیعت کر لی تھی اور پھر کسی جلسہ کے موقعہ پر لاہور میں کپڑا پکڑ کر دستی بیعت کی۔بیعت کے بعد اپنے علاقہ کی کسی بڑی سے بڑی مخالفت کی بھی کبھی پروانہ کی۔احمدیت پر قائم رہے۔اور جو ۱۹۴۰ء میں قادیان دارالامان میں بعمر ۸۴ سال وفات پاگئے۔آپ حضرت قاضی صاحب کے رشتہ میں بھتیجا تھے۔بیان کرتے تھے کہ حضرت قاضی ضیاء الدین صاحب کو تبلیغ کی ایک خاص دُھن اور عشق تھا۔اور اس تبلیغی محبت میں وہ بہت سفر کرتے تھے۔ایک جزدان گلے ڈالے پہلو میں رکھتے تھے۔جس میں قلم دوات اور کتب اور تبلیغی حوالے موجود ہوتے تھے۔ضلع گوجرانوالہ کے ہر قصبہ میں جاتے۔اور تبادلہ خیالات کرتے۔تمام رشتہ داروں کے ہاں بار بار جاتے اور تبلیغ کرتے تھے۔گوجرانوالہ کے ضلع میں پہلے احمدی وہی تھے۔ہمیں بھی انہی کے ذریعہ احمدیت نصیب