اصحاب احمد (جلد 6) — Page 51
51 * ہو چکی ہوتی۔اسی وجہ سے حضرت اقدس نے اپنی بعض تصانیف میں اخلاص سے ادا کردہ قلیل ترین رقوم کا ذکر کیا ہے۔مرض الموت اور انتقال : ** قاضی محمد عبداللہ صاحب بیان کرتے ہیں ” میرے والد صاحب ۱۲ مئی ۱۹۰۴ ء کو فوت ہوئے۔حضرت اقدس ان ایام میں گورداسپور جایا کرتے تھے۔میرے والد صاحب اس وقت اس کمرے میں جہاں اب میاں مولا بخش کی دکان ہے۔** بیمار پڑے تھے۔اس وقت وہاں مدرسہ کی ایک کلاس ہوتی تھی۔ان ایام میں مدرسہ میں رخصتیں تھیں۔والد صاحب کا دل چاہتا تھا کہ جب حضور اس گلی سے گذریں تو میں ان کو دیکھوں۔چنانچہ جب حضرت گذرے تو ایک کھڑ کی کھلی تھی۔اس میں سے انہوں نے مشکل سے حضرت صاحب کو دیکھا۔اور اس کے کچھ عرصہ کے بعد ان کا انتقال ہو گیا۔حضرت واپس تشریف لائے تو ایک دن وہ گھر میں بیٹھے ہوئے کچھ تحریر فرما ر ہے تھے۔اس وقت میری ہمشیرہ نے والد صاحب کی اس خواہش کا ذکر کر دیا۔اس پر فرمایا اگر وہ مجھے کہتے تو میں ضرور آتا۔حضور کو اس وقت بڑی تکلیف ہوئی اور اس وقت تحریر لکھنی بند کر دی اور پھر ٹہلتے رہے۔“ ” میرے والد صاحب کی وفات سے قبل حضور کو الہام ہوا تھا: وہ بیچارہ فوت ہو گیا ہے“ حضرت صاحب کو گورداسپور میں ان کی وفات کا علم ہوا تو بہت افسوس کا خط لکھا۔میرے متعلق فرمایا تھا کہ لنگر کا کھانا جاری رہے۔چنانچہ ۱۹۰۷ء تک جب تک میں ملازم نہیں ہو گیا لنگر سے کھانا کھاتا رہا۔“ (36) قاضی عبدالسلام صاحب بیان کرتے ہیں کہ جہاں تک مجھے یاد ہے۔ہماری پھوپھی امتہ الرحمن صاحبہ صحیح تاریخ پندرہ مئی ہے جیسا کہ بعد میں تفصیلاً ذکر کیا گیا ہے۔میاں مولا بخش صاحب باور چی لنگر خانہ (جواب درویشی زمانہ میں وفات پا کر بہشتی مقبرہ میں مدفون ہو چکے ہیں) ایک وقت میں اس کمرہ میں دکان کرتے تھے۔جو احمد یہ درزی خانه ( واقع چوک مسجد مبارک) کے قریب ان سیٹرھیوں کے جنوب کی طرف تھا۔جور یو یو آف ریلینجز والے دفتر کو جاتی تھیں۔یہ کمرہ اب مدت مدید سے مدرسہ احمدیہ کا ایک کمرہ ہے۔مؤلف۔