اصحاب احمد (جلد 6) — Page 39
39 حضرت مولوی برہان الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے نام کے سامنے لکھا ہے۔یہ مولوی صاحب راقم 66 کے دوست جانی ہیں لڑکپن سے۔“ ایک شخص ابراہیم حکیم کے سامنے لکھا ہے۔”باشتیاق تمام گرفت و اظہارِ شوق ملاقات حضرت اقدس ہمراہ عاجز ظاہر کرد رسالہ ریویو آف ریجنز (انگریزی) کا اجراء: ایک انجمن اشاعت اسلام کا قیام عمل میں لایا گیا۔اور اس مارچ ۱۹۰۱ء کو مسجد اقصیٰ میں جلسہ ہوا۔جس میں حضرت اقدس نے دنیا کی مذہبی حالت اور اپنی بعثت کی غرض وغایت کا ذکر کر کے فرمایا۔عرب اور یورپ میں اشاعت کی بہت ضرورت ہے۔یورپ اخلد الی الارض کا مصداق ہو گیا ہے۔اس نصف صدی میں اسلام کی توہین میں مقابلہ بہت زیادہ کتب وغیرہ شائع ہوئی ہیں اس لئے کوئی شخص مومن نہیں ہوسکتا۔جب تک اس میں غیرت نہ ہو۔بے غیرت دیوث ہوتا ہے۔اگر اسلام کی عزت کے لئے دل میں محبت نہیں تو عبادت بھی بے سود ہے۔”ہمیں اتفاق نہیں ہوا کہ انگریزی میں لکھ پڑھ سکتے۔اگر ایسا ہوتا تو ہم کبھی بھی اپنے دوستوں کو تکلیف نہ دیتے۔مگر اس میں مصلحت یہ تھی کہ دوسروں کو ثواب کے لئے بلائیں۔اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر خدمت دین میسر نہیں ہوسکتی۔اور جو شخص خدمت دین کیلئے اٹھتا ہے۔وہ اسے ضائع نہیں کرتا۔ہمارا منشاء صرف یہ ہے کہ تبلیغ ہو جائے۔احباب نے اسے تجارتی ڈھنگ پر چلانے کو سہل طریق سمجھا ہے۔تجارت کے امورظن غالب ہی پر چلتے ہیں۔بہر حال اصل کام تو ہو جائے گا۔آپ غور کر لیں۔دوسرے اجلاس میں یہ قرار پایا کہ کل سرمایہ رسالہ دس ہزار روپیہ کا ہو۔جس کے ایک ہزار حصص ہوں۔گویا فی حصہ دس روپے کا ہو۔بورڈ آف ڈائریکٹرز کے صدر حضرت مولوی نورالدین صاحب نائب صدر حضرت مولوی عبد الکریم صاحب اور سیکرٹری خواجہ کمال الدین صاحب مقرر ہوئے۔رسالہ کا نام ریویو آف ریلیجنز تجویز ہوا۔اس وقت اس کی اشاعت گاہ لاہور طے ہوئی تھی۔بعد میں قادیان قرار پائی۔فتنہء دجال کا استیصال حضرت مسیح موعود کی بعثت کی خاص غرض و غایت ہے۔اور فتنہ دجال کا مرکز یورپ ہے۔اور عرب اس لئے اہمیت رکھتا ہے کہ اس فتنہ کا استیلاء اور غلبہ تمام دنیا میں ہوا ہے۔عرب میں عدم اشاعت قبولیت سلسلہ احمدیہ میں ایسی ہی روک بن سکتی ہے۔جیسے مدینہ منورہ اور اردگرد کے علاقہ کی فتوحات کے با وجود مکہ مکرمہ کا اغیار کے قبضہ میں ہونا بھی ایک اعتراض کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔اور اللہ تعالیٰ نے اس