اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 142 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 142

142 دفعه إنِّى أُذِيبُ مَنْ يُرِيبُ مرقومه دافع البلاء گرفتار ہوکر اپنی پاداش کو پہنچا۔اس کے دو ہی لڑکے تھے۔جو یکے بعد دیگرے طاعون سے فنا ہوئے۔چھ سات روز کے بعد ۵ اپریل ۱۹۰۶ء وہ خود بھی اس مرض میں مبتلا ہو کر غارت ہوا۔الحمد للہ کہ خدا تعالیٰ کے مرسل کا فرمایا حرف بحرف پورا ہوا۔اور ہمارے لئے ایک تازہ نشان ظاہر ہوا۔آج کل شہر میں طاعون کثرت سے ہے۔عاجز کیلئے دعا فرما دیں کہ اللہ تعالیٰ کشتی نوح میں سوار ہونے کے قابل بنا دے۔دعا کا خواستگار قاضی عبدالرحیم از جموں“ (89) اس پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے دریافت کر کے مزید حالات بھجوانے کیلئے تحریر کیا تو قاضی صاحب نے لکھا ہے: دبسم الله الرحمن الرحیم محمد ، فصلی علیٰ رسولہ الکریم مکر می جناب مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ”جناب کا نوازش نامہ شرف صدور لایا۔نہایت خوشی ہوئی۔چراغ دین کے حالات دریافت کرنے کے واسطے آج میں اس کے مکان کی طرف جارہا تھا کہ راستہ میں یعقوب مسیحی امریکن مشن کے پادری سے ملاقات ہوئی۔یہ شخص اس کا بڑا انیس تھا۔چراغ دین عموماً اس سے مجلس رکھتا تھا۔یعقوب مسیحی اس کی تصانیف کا از حدثنا خواں ہے۔چراغ دین نے نور الہدی منارة اسبح چھپوا کر شائع کی تھی اور ایک کتاب اعجاز محمدی کے چھپوانے کے درپے تھا۔کچھ کا پیاں بھی لکھی گئیں تھیں اور کتاب چھاپہ خانہ میں جا چکی تھی۔مگر اجل نے اسے فرصت نہ دی۔وہ کامیاب نہ ہوا۔اعجاز محمدی میں چکڑالوی اور سرسید احمد صاحب اور حضرت مرزا صاحب کا تذکرہ ہے۔یعقوب کہتا ہے کہ اگر کوئی مرزائی اسے بغور دیکھے تو اس کے دیکھنے کے بعد وہ مرزائی نہیں رہ سکتا۔کتاب کیا موتیوں کی لڑی ہے۔وہ خواہشمند ہے کہ یہ کتاب کسی طرح چھپ جائے حتی کہ اپنی جیب سے چھپوانے کو تیار ہے۔منارة المسبح اکبر مسیح نے چھپوائی تھی۔اس نے دوصد پچاس روپے اپنی گرہ سے صرف کئے تھے۔اس کی کتابیں ایسی ہیں کہ کسی شخص کو اس کی طرز تحریر گراں نہیں گزرتی۔اس نے ایک