اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 129 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 129

129 گئی۔اس دوا کا مندرجہ بالا روایت میں ذکر آیا ہے۔(۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب خموش بیٹھے ہوتے تھے تو آہستہ آواز میں سبحان اللہ کا ورد زبان مبارک پر جاری رہتا۔مگر وہ شخص سُن سکتا تھا۔جو بہت قریب ہو۔اور غور سے سُنے۔چنانچہ میں نے خود کئی دفعہ سُنا۔(۱۰) ایک دفعہ اکھنور ریاست جموں میں بسلسلہ ملازمت میں مقیم تھا اور اس زمانہ میں وہاں کوئی احمدی نہ تھا۔عید قریب تھی۔میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں لکھا کہ ایسے موقعہ پر نماز عید ادا کرنے کیلئے کیا کیا جائے تو حضور کی طرف سے مجھے جواب آیا کہ غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی۔عید گھر میں پڑھ لو۔( ڈائری ) (11) ڈائری میں ۱۲ جنوری ۱۹۰۲ء کے تحت عید الفطر کے متعلق تحریر کرتے ہیں: آج عید کا دن ہے۔مسجد جامع ( مراد مسجد اقصیٰ۔ناقل ) میں حضرت اقدس علیہ السلام کے ساتھ نماز ادا کی گئی۔اور مولوی نورالدین صاحب نے بڑا عجیب وعظ فرمایا۔(۱۲) ڈائری ۱۳/ مارچ ۱۹۰۲ء آج حضرت نے فرمایا کہ یہ دن خدا کے غضب کے ہیں۔سب لوگ رات کو اُٹھیں اور دعائیں کریں اور کل طاعون کے متعلق تقریر ہوگی۔سب لوگ حاضر ہوں۔“ (۱۳) ڈائری ۳۱ مارچ ۱۹۰۲ء آج بروز جمعہ عید الاضحی کی تقریب پر مولوی محمد احسن صاحب نے وعظ فرمایا اور پھر جمعہ پر مولوی عبدالکریم صاحب نے خطبہ پڑھا۔اس دفعہ حضرت صاحب نے فرمایا تھا کہ کوئی شخص آلودہ اور طاعون زدہ شہروں سے نہ آوے۔اس واسطے اس تقریب پر بہت تھوڑے آدمی پہلے کی نسبت آئے۔“ (۱۴) ڈائری ۱۲ اکتوبر ۱۹۰۳ء پتاشه از خانه حضرت به تقریب آمد دلہن محمود۔خاکسار مؤلف عرض کرتا ہے کہ حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ (حرم اوّل سید نا حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب ایدہ اللہ تعالیٰ کے انتقال پر اس بارہ میں غلط فہمی ہوئی ہے۔آیا ۱۹۰۲ء میں نکاح کے ساتھ رخصتانہ بھی عمل میں آیا تھایا نہیں۔چنانچہ مجد داعظم کا مؤلف بھی اس غلط فہمی کا شکار ہوا ہے۔(ملاحظہ جو جلد ۲ ص۸۷۶) لیکن