اصحاب احمد (جلد 6) — Page 12
12 ناک حالت تھی کہ اجنبی لوگوں کو بھی وہ حالت دیکھ کر رحم آتا تھا۔شدت مرض تخمینا تین ماہ تک رہی۔اس قدر مدت میں کھانے کا نام تک نہ تھا۔صرف پانی پیتیں اور قے کر دیتیں۔دن رات میں پچاس ساٹھ دفعہ متواتر قے ہوتی۔پھر در دقدرے کم ہوا۔مگر نادان طبیبوں کے بار بار فصد لینے سے ہزال مفرط کی مرض مستقل طور پر دامن گیر ہوگئی۔ہر وقت جان بلب رہتیں۔دس گیارہ دفعہ تو مرنے تک پہنچ کر بچوں اور عزیز اقرباء کو پورے طور پر الوداعی غم والم سے رلایا۔غرض گیارہ مہینے تک طرح طرح کے دکھوں کی تختہ مشق رہ کر آخر کشادہ پیشانی بیہوش تمام کلمہ شریف پڑھ کر ۲۸ برس کی عمر میں سفر جاودانی اختیار کیا۔إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا الَيْهِ رَاجِعُونَ ط اور اس حادثہ جانکاہ کے درمیان ایک شیر خوار بچہ رحمت اللہ نام بھی دودھ نہ ملنے کے سبب سے بھوکا پیاسا را ہی ملک بقا ہوا۔بھی یہ زخم تازہ ہی تھا کہ عاجز کے دو بڑے بیٹے عبدالرحیم وفیض رحیم تپ محرقہ سے صاحب فراش ہوئے۔فیض رحیم کو تو ابھی گیارہ دن پورے نہ ہونے پائے کہ اس کا پیالہ عمر کا پورا ہو گیا اور سات سالہ عمر میں ہی داعی اجل کو لبیک کہہ کر جلدی سے اپنی پیاری ماں کو جا ملا۔اور عبدالرحیم تپ محرقہ اور سرسام سے برابر دو ڈھائی مہینے بے ہوش میت کی طرح پڑا رہا۔سب طبیب لا علاج سمجھ چکے۔کوئی نہ کہتا کہ یہ بچے گا لیکن چونکہ زندگی کے دن باقی تھے۔بوڑھے باپ کی مضطربانہ دعا ئیں خدا نے سن لیں اور محض اس کے فضل سے صحیح سلامت بیچ نکلا۔اگر چہ پٹھوں میں کمزوری اور زبان میں لکنت ابھی باقی ہے۔وو یہ حوادث جانکاہ تو ایک طرف ادھر مخالفوں نے اور بھی شور مچا دیا تھا۔آبرو ریزی اور طرح طرح کے مالی نقصانوں کی کوششوں میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھا۔غریب خانہ میں نقب زنی کا معاملہ بھی ہوا۔اب تمام مصیبتوں میں یکجائی طور پر غور کرنے سے بخوبی معلوم ہوسکتا ہے کہ عاجز راقم کس قدر بلیہ ء دل دوز سینہ سوز میں مبتلا رہا۔اور سب اُنھی آفات ومصائب کا ظہور ہوا۔جس کی حضور نے پہلے سے ہی مجمل طور پر خبر کر دی تھی۔اسی اثناء میں حضرت مسیح موعود نے از راہ نوازش تعزیت کے طور پر ایک تسلی دہندہ چٹھی بھیجی۔وہ بھی ایک پیشگوئی پر مشتمل تھی۔جو پوری ہوئی اور ہورہی ہے لکھا تھا کہ واقعی میں آپ کو سخت ابتلا ء پیش آیا۔یہ سنت اللہ ہے تا کہ وہ اپنے مستقیم الحال بندوں کی استقامت لوگوں پر ظاہر کرے۔اور تا کہ