اصحاب احمد (جلد 6)

by Other Authors

Page 126 of 159

اصحاب احمد (جلد 6) — Page 126

126 انہوں نے تمام لوگوں میں مشتہر کیا۔اور اس کے ذریعہ سے ہندوستان کے کافروں کو امداد پہنچائی اور بہت بڑی سرکشی اختیار کی جس کی مثال پہلے فرعون کے زمانہ میں بھی نہیں سنی گئی۔اس میں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام ایسی گالیاں دیکھیں جن سے مومنوں کے دل پھٹ جائیں اور مسلمانوں کے کلیجے چیرے جائیں۔میں نے دیکھا کہ اس میں ایسے کلمات ہیں جن سے قریب ہے کہ آسمان پھٹ جائیں۔۔۔۔۔پس میں نے دروازوں کو بند کر لیا۔۔۔۔۔اور نہایت تضرع کے ساتھ اس کی مدد طلب کی۔۔۔۔۔میں نے پکارا اے رب ! اپنے بندہ کی نصرت فرما۔اور اپنے اعداء کو ذلیل ورسوا کر۔۔۔پس رحم کیا میرے رب نے میری تقرعات پر اور فرمایا کہ میں نے ان کی عصیان اور سرکشی دیکھی ہے۔جلدی ہی میں ایسی آفات کا عذاب ان پر وارد کروں گا۔جو آسمان کے نیچے سے انہیں پہنچے گا۔میں اُن کی عورتوں کو رانڈ اور اُن کے بیٹوں کو یتیم بنادوں گا اور اُن کے گھروں کو ویران کر دوں گا۔بے شک میری لعنت نازل ہونے والی ہے۔اُن پر اور ان کے گھروں کی دیواروں پر اور ان کے چھوٹوں پر اور اُن کے بڑوں پر اور ان کی عورتوں پر اور ان کے مردوں پر اور ان کے مہمانوں پر جو ان کے گھروں میں داخل ہوں اور وہ سب کے سب ملعون ہیں۔سوائے ان کے جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اور ان سے تعلقات منقطع کر لیں اور ان کی مجالس سے دور ہو جائیں“۔(79) ظاہر ہے کہ مرزا امام الدین ایسے شخص کا جنازہ پڑھنے والا بھی اسی قماش کا ہوگا۔(۳) ایک دفعہ مسجد مبارک میں تشریف رکھتے ہوئے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز تہجد کی پابندی کی تاکید فرمائی اور اسے نہایت ضروری بیان فرمایا اور بار بار تاکید فرمائی۔اور فرمایا کہ اگر کوئی شخص اس وقت اٹھنے کی طاقت نہ رکھے تو وہ چار پائی پر ہی پڑھ لے۔یہ بھی نہ ہو سکے تو لیٹے لیٹے ہی اس وقت خدا کی یاد اور استغفار کر لے۔(۴) '' ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ کوشش کرنی چاہئے کہ نماز کھڑے ہو کر ہی ادا کی جائے اور فرمایا کہ میں بیماری میں بھی حتی الوسع یہی کوشش کرتا ہوں کہ نماز کے فرض کھڑے ہو کر پڑھوں۔(۵) ایک دفعہ ہم نے سنا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اگر سجدہ والی جگہ