اصحاب احمد (جلد 6) — Page 125
125 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کیلئے یہ انتظام فرمایا کہ بجائے مہندا کے آئندہ میاں کرم داد احمدی جانور ذبح کیا کریں اور ایک قصاب کو احمد یہ چوک میں بٹھایا گیا۔جس سے میاں کرم داد کا ذبیحہ گوشت خریدا جاتا تھا۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مرزا امام دین شریعت اسلام اور اللہ تعالیٰ کی نسبت تمسخرانہ رویہ رکھتے تھے۔اور دہر یہ خیالات کے تھے۔ایسے شخص کا جنازہ پڑھانے والا شریعت کے احکام کا استخفاف کرنے والا سمجھا گیا۔“ خاکسار مؤلف اصحاب احمد یہ عرض کرتا ہے کہ مرزا امام الدین حضرت اقدس کے چچا زاد بھائی تھے۔ان کی مجلس میں چرس اور بھنگ پینے والے جمع ہوتے تھے۔یہ لوگ اباحتی فقیروں کی طرح دین کا تمسخر کرتے تھے۔یہ معلوم ہونے پر کہ لیکھرام نے حضرت اقدس سے خط و کتابت شروع کی ہوئی ہے۔نومبر ۱۸۸۵ء میں مرزا امام الدین خود جا کر لیکھرام کو قادیان لائے اور آریہ سماج کی تجدید ہوئی اور مرزا صاحب مذکور اور اس کے زیر اثر بعض نام نہاد مسلمان آریہ سماج قادیان کے ممبر بنے۔جس کا مقصد صرف اور صرف حضرت اقدس کی مخالفت تھا۔احباب کو یہ امر بھی یادر ہے کہ مرزا نظام الدین مرزا امام الدین دونوں بھائی ملحد و بے دین تھے اور ان کی اور ان کے اقارب کی ایسی بے با کی ہی محمدی بیگم والے عظیم نشان کے ظہور میں آنے کا موجب ہوئی تھی۔ان کی حالت حضرت اقدس نے تفصیلاً آئینہ کمالات اسلام میں عربی میں رقم فرمائی ہے۔جس کا ایک حصہ اردو میں پیش کرتا ہوں۔فرماتے ہیں: ایک شخص میرے پاس روتا ہوا آیا۔میں اس کے رونے سے ڈر گیا۔اور اس سے کہا کہ کیا تو کوئی موت کی خبر لایا ہے۔اس نے کہا بلکہ اس سے بڑھ کر۔اور بتایا کہ میں ان لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔جو دین اللہ سے مرتد ہو گئے ہیں۔ان میں ایک نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نہایت سخت غلیظ گالی دی جو میں نے اس سے پیشتر کسی کافر کے منہ سے بھی نہیں سنی۔اور میں نے انہیں دیکھا کہ قرآن کو اپنے پاؤں کے نیچے رکھتے ہیں اور ایسے کلمات منہ سے نکالتے ہیں کہ زبان ان کے نقل کرنے سے قاصر ہے۔اور کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی وجود نہیں اور نہ دنیا کا کوئی معبود ہے۔صرف مفتریوں نے جھوٹی باتیں بنارکھی ہیں۔”انہوں نے ایک اشتہار لکھا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوگالیاں دیں اور کلام اللہ کو اس میں گالیاں دیں۔اور اللہ تعالیٰ کے وجود کا انکار کیا اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس کتاب میں مجھ سے میری سچائی اور ہستی باری تعالیٰ کا نشان طلب کیا اور اپنے اس اشتہار کو