اصحاب احمد (جلد 6) — Page 121
121 * آجانے پر سیر کیلئے روانہ ہوتے۔شہتوت کے موسم میں بڑے باغ متصل بہشتی مقبرہ میں تشریف لے جاتے اور شہتوت منگوا کر وہیں احباب کے ساتھ اکٹھے بیٹھ کر کھاتے۔کبھی بعض دوست سیر میں نظمیں بھی سناتے تھے۔مجھے جہاں تک یاد ہے۔۱۹۰۱ء میں میر مہدی حسین صاحب نے ایک دفعہ موضع بڑ کے راستہ میں سیر کے دوران نظم پڑھ کر سنائی تھی۔ہم طالب علم سیر میں حضور کے دائیں بائیں اور کبھی آگے نکل جاتے تھے اور میں بار ہا حضوڑ کے عمامہ مبارک کا شملہ اپنی آنکھوں سے یہ یقین کر کے لگایا کرتا تھا کہ اس کی برکت سے میری آنکھیں نہیں دیکھیں گی۔(۱۴) میں نے منشی عبدالحق صاحب سے سنا تھا کہ جب وہ تحقیق حق کیلئے قادیان میں آئے تھے اور وہ حضرت اقدس سے کوئی سوال یا اعتراض پیش کر کے جواب مانگتے تو حضور پیش کردہ سوال کا جواب بھی دیتے اور اس سوال کا جواب بھی دیتے جوا بھی میرے دل میں ہوتا۔اس سے مجھے یقین ہو گیا کہ حضور حق پر ہیں اور میں عیسائیت ترک کر کے مسلمان ہو گیا۔* (۱۵) اِعْدِلُوا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوی - پر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ اپنے اعضائے جسمانی سے بھی عدل کا معاملہ کرو اور ان سے ان کی طاقت سے زیادہ کام نہیں لینا چاہئے۔(۱۲) پہلے حضور قلم سے لکھا کرتے تھے پھر ٹیڑھی نب سے لکھنا شروع کر دیا تھا۔(۱۷) ایام طاعون میں حضور صفائی کا بہت خیال رکھتے تھے اور دارا مسیح میں بہت سی گندھک جلانے کا انتظام فرماتے تھے۔(۱۸) ایک دفعہ حضور کو درد گردہ کی تکلیف ہوئی۔ہم طالب علم ریتی چھلہ کے بڑ کے پیٹر کے نیچے میروڈ بہ کی کھیل کھیل رہے تھے کہ ہمیں اس بات کا علم ہوا اور ہم کھیل چھوڑ کر حضور کی خدمت میں عیادت کیلئے حاضر ہوئے۔حضور نے ہمیں دیکھ کر فرمایا کہ دعا کرو۔(۱۹)’ ملک نور خاں صاحب جو بعد ازاں کچھ عرصہ شفاخانہ نور قادیان میں ڈسپنسر کے طور پر منشی صاحب کا اس بارہ میں اپنا بیان الحکم ۱۰/۱/۰۲ پر درج ہے۔حضرت ملک مولا بخش صاحب کی ایک تائیدی روایت اصحاب احمد جلد اول ص ۲۹ اپر مرقوم ہے۔قاضی صاحب فرماتے ہیں الحکم ۱۴/۲/۲۶ میں سہو ا نام عبدالحق کی بجائے عبدالرحیم شائع ہوا تھا۔