اصحاب احمد (جلد 5) — Page 593
۵۹۹ ۲۷- والدین کی علیحدگی میں اولاد کا حق حضانت کسے حاصل ہے استفتاء۔خاوند بیوی میں علیحدگی کی صورت میں اولا دکس کے پاس رہے گی۔جبکہ عورت کے پاس رہنے میں تربیت میں نقص ہونے کا ڈر ہو۔فتوی: نابالغ بچوں کے متعلق دو حق ہوتے ہیں۔اول حق ولدیت۔یہ والد کو حاصل ہے۔دوم حق حضانت۔یہ شریعت اسلام نے والدہ کو دیا ہے۔ہاں قضا میں والد یہ ثابت کر دے کہ والدہ کے پاس رہنے سے بچوں کو جسمانی یا اخلاقی کوئی نقص پہنچنے کا خطرہ ہے تو پھر قضا والدہ سے حق حضانت لے کر کسی ایسی قریبی عورت کو حق حضانت دے گی۔جہاں یہ خطرہ نہ ہو۔(ان سب صورتوں میں اخراجات کا متکفل والد ہوگا ) اور اگر کوئی ایسی عورت نہ ہو۔تب والد کو دے گی۔اور سوائے قضا کے فیصلہ کے والد اس خطرہ سے عورت کو اس حق سے محروم نہیں کرسکتا۔(۳۴-۰۶-۱۲) ۲۸ - پراویڈنٹ فنڈ اور سیونگ بنگ کا سود استفتاء۔(۱) پراویڈنٹ (۲) جنرل پراویڈنٹ فنڈ کا سود جائز ہے یا نہ۔(۳) سیونگ بنگ (۴) دوسرے بنکوں کا سودا اپنے لئے جائز ہے یا نہ۔فتویٰ : کا جواب یہ ہے کہ نبی کریم نے سود کے متعلق دو اصول بتائے ہیں۔اول یہ ہے کہ کل قرض جر نفعًا فهو ربی ۷۲ ( ہر ایک قرض جو نفع لائے وہ سود ہے ) دوئم یہ کہ سات چیزوں کو حضور نے بیان فرمایا جن میں سے سونا چاندی اور کچھ پھل اور نمک ہیں اور پھر فرمایا کہ ان میں سے ایک اپنی جنس سے جب تبادلہ ہوتو يدا بيد وسواء بسواء دالفضل ربی (ہاتھ یہ ہاتھ ہو وہ برابر ہوا ور زیادتی سود ہے ) پس سود کی یہی دوصورتیں ہیں۔تیسری کوئی نہیں اور قرض کی بنیاد لینے والے کے ارادہ پر ہوتی ہے۔جس کا اظہار کبھی الفاظ سے اور کبھی اغراض اور عمل درآمد سے ہوتا ہے۔پراویڈنٹ فنڈ میں ملازم سے روپیہ قرض نہیں لیا جا تا۔بلکہ گورنمنٹ ملازم کے فائدہ اور اس کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے لئے پہلے قانون بناتی ہے۔اور پھر اس قانون کے ذریعہ ملازم کا کچھ روپیہ اپنے پاس جمع کر کے واپسی کے وقت اپنی طرف سے کچھ روپیہ حسب قانون اس کو دیتی ہے۔اور یہ شرعاً سود نہیں۔جنرل پراویڈنٹ فنڈ کی تفصیل سوال میں درج نہیں۔اگر مذکورہ بالا ہی طریق پر وہ بھی ہے تو پھر اس کا بھی