اصحاب احمد (جلد 5)

by Other Authors

Page 550 of 694

اصحاب احمد (جلد 5) — Page 550

جب صرف مجددیت کا دعویٰ تھا۔میں نے حضرت صاحب کی خدمت میں عرض کی کہ میں حضور کو صدق دل سے سچا سمجھتا ہوں اور مجھے قطعاً کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن جس رنگ کا اثر اہل علم کی صحبت میں سنا جاتا ہے وہ میں حضور کی صحبت میں بیٹھ کر اپنے اندر نہیں پاتا۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ آپ ملک کا ایک چکر لگائیں اور سب دیکھ بھال کر دیکھیں کہ جس قسم کے اہل کتاب آپ تلاش کرتے ہیں اور جو اثر آپ چاہتے ہیں وہ دنیا میں کہیں موجود بھی ہے یا نہیں یا صرف کہنے کی باتیں ہیں۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ پھر میں سے اسی غرض سے تمام ہندوستان کا ایک دورہ کیا اور سب مشہور مقامات کراچی، اجمیر، ممبئی ، حیدر آباد دکن ، کلکتہ وغیرہ میں گیا اور مختلف لوگوں سے ملا اور پھر سب جگہ سے ہو کر واپس پنجاب آیا۔اس سفر میں مجھے بعض نیک آدمی بھی ملے لیکن وہ بات نظر نہ آئی جس کی مجھے تلاش تھی۔پھر میں وطن جانے سے پہلے حضرت صاحب کی ملاقات کے لئے قادیان کی طرف آیا۔مگر جب بٹالہ پہنچا تو اتفاقاً مجھے ایک شخص نے اطلاع دی کہ حضرت صاحب تو یہیں بٹالہ میں ہیں۔چنانچہ میں حضرت کی ملاقات کے لئے گیا۔اس وقت آپ مولوی محمد حسین بٹالوی کے مکان پر ٹھہرے ہوئے تھے۔میں جب گیا تو آپ باہر سیر سے واپس مکان کو تشریف لا رہے تھے۔چنانچہ میں حضور سے ملا اور حضور نے مجھ سے سفر کے حالات دریافت فرمائے۔جو میں نے عرض کئے اور پھر میں بٹالہ سے ہی واپس وطن چلا گیا۔اس سفر میں نصیر آباد جو اجمیر کی طرف ایک جگہ ہے مجھے ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی جو حضرت صاحب کے بہت معتقد تھے اور حضرت کے ساتھ خط و کتابت رکھتے تھے۔ان لوگوں نے مجھے اپنے پاس مستقل طور پر ٹھہرانا چاہا اور میرے لئے ایک معقول صورت گزارے کی بھی پیش کی لیکن مجھے شرح صدر نہ ہوا۔بعد میں جب حضرت صاحب نے مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تو یہ لوگ مرتد ہو گئے اور تب یہ بات مجھے سمجھ آئی کہ مجھے وہاں ٹھہرنے کے لئے کیوں شرح صدر نہیں ہوا تھا۔اگر میں ٹھہر جاتا تھا تو ممکن ہے خود بھی کسی ابتلاء میں پڑ جاتا۔خیر اس کے بعد کچھ عرصہ گزرا اور میں قادیان نہ آیا۔اسی دوران میں سلسلہ بیعت بھی شروع ہو گیا اور مسیحیت کا دعوی بھی ہو گیا لیکن گو میں بدستور معتقد رہا اور کبھی مخالفوں کی مخالفانہ باتوں کا میرے دل پر اثر نہیں ہوا۔کیونکہ میں خود اپنی آنکھوں سے حضرت صاحب کو دیکھ چکا تھا لیکن میں بیعت سے رکا رہا۔اس کے بعد ایک دفعہ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو حضرت مولوی نورالدین صاحب خلیفہ اول نے مجھ سے تحریک فرمائی کہ بیعت میں داخل ہو جانا چاہئے۔میں نے عرض کیا کہ مجھے ہرگز کوئی اعتراض نہیں ہے۔اور میں دل سے سچا سمجھتا ہوں لیکن اتنا بڑا دعویٰ بھی ہو اور میں اثر سے محروم رہوں اور اپنے اندر وہ بات نہ پاؤں جو اہل اللہ کی صحبت میں سنی جاتی ہے تو پھر مجھے کیا فائدہ ہوا؟ یہ سن کر حضرت صاحب نے فرمایا ایسی صورت میں آپ کو واقعی بیعت میں داخل نہیں ہونا چاہئے۔ہاں آپ کچھ عرصہ میرے پاس قیام کریں۔پھر اگر تسلی اور تشفی