اصحاب احمد (جلد 5) — Page 549
۵۵۵ ۱۳- اہل اللہ کا اثر حضرت ممدوح بیان کرتے ہیں۔بسم الله الرحمن الرحیم۔مولوی قطب الدین صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ سلسلہ بیعت سے قبل بقیہ حاشیہ: - علمی طور پر توجہ کے فلسفہ کو بھی دنیا ابھی عام طور پر نہیں سمجھتی تھی اس لئے یہ باتیں طبقہ صوفیاء میں رائج ہو گئیں اور پھر آہستہ آہستہ ان کا اثر اتنا وسیع ہوا کہ بس انہی کو روحانی کمال سمجھ لیا گیا اور اصل روح جس کی بقاء کے واسطے ڈوبتے کو تنکے کا سہارا سمجھ کر اس جسم کو ابتداء میں اختیار کیا گیا تھا۔نظر سے اوجھل اور دل سے محو ہو گئی لیکن مسیح موعود کے زمانہ میں جو اخرین منھم کا زمانہ ہے حقیقت حال منکشف کی گئی۔چنانچہ جب حضرت مسیح موعود نے منشی صاحب کو یہ فرمایا کہ اگر آپ نے کسی شخص کو اپنی توجہ سے گرا لیا تو اس کا نتیجہ یا فائدہ کیا ہوا۔یعنی دینی اور روحانی لحاظ سے اس توجہ نے کیا فائدہ دیا۔کیونکہ یہ بات تو مشق کے ساتھ ایک دہر یہ بھی اپنے اندر پیدا کر سکتا ہے تو منشی صاحب کی آنکھیں کھل گئیں اور ان کو پتہ لگ گیا کہ خواہ ہم علم توجہ میں کتنا بھی کمال حاصل کر لیں لیکن اگر لوگ حقیقی تقوی وطہارت اور تعلق باللہ کے مقام کو حاصل نہیں کرتے تو یہ بات روحانی طور پر کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتی۔واقعی منہاج نبوۃ کے مقابلہ میں جس پر حضرت مسیح موعود کو قائم کیا گیا اور جس نے روحانیت کا ایک سورج چڑھا دیا۔یہ درد آمیز۔مکدر اور عارضی روشنی جسے بسا اوقات ایک چور بھی لوگوں کے قلوب سے ایمان و اسلام کا اثاثہ چرانے کی نیت سے اپنی سیاہ کاری میں ممد بنا سکتا ہے کب ٹھہر سکتی تھی۔نیز خاکسار عرض کرتا ہے منشی احمد جان صاحب لدھیانوی ایک بڑے صوفی مزاج آدمی تھے۔اور اپنے علاقہ کے ایک مشہور پیر سجادہ نشین تھے۔مگر افسوس حضرت صاحب کے دعوئی میسحیت سے پہلے ہی فوت ہو گئے۔ان کو حضرت مسیح موعود سے اس درجہ عقیدت تھی کہ ایک دفعہ انہوں نے آپ کو مخاطب کر کے یہ شعر فر مایا۔ہم مریضوں کی تم مسيحاً مسیحا بنو تمہیں ہے خدا کے لئے منشی صاحب موصوف کی لڑکی سے حضرت خلیفہ اول کی شادی ہوئی اور حضرت مولوی صاحب کی سب نرینہ اولا دانہی کے بطن سے ہے منشی صاحب کے دونوں صاحبزادے قادیان میں ہی ہجرت کر کے آگئے ہوئے ہیں اور منشی صاحب کے اکثر بلکہ قریباً سب متبعین احمدی ہیں نیز خاکسار عرض کرتا ہے کہ مولوی سید سرور شاہ صاحب منشی صاحب مرحوم سے خود نہیں ملے۔لہذا انہوں نے کسی اور سے یہ واقعہ سنا ہوگا۔“